لکھنؤ، 10؍مئی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )یوپی الیکشن میں بی ایس پی کی طرف سے سب سے سرکردہ مسلم چہرہ کواب ضرورت ختم ہوتے ہی معطل کردیاگیاہے ۔کبھی بی ایس پی سربراہ مایاوتی کا داہنا ہاتھ کہے جانے والے پارٹی کے جنرل سکریٹری نسیم الدین صدیقی کو بدعنوانی اور پارٹی مخالف سرگرمیوں میں شامل ہونے کے الزام میں آج پارٹی سے نکال دیا گیاہے ۔بی ایس پی جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن ستیش چندر مشرا نے یہاں پریس کانفرنس میں اس بات کی معلومات دی۔انہوں نے بتایا کہ نسیم الدین نے انتخابات کے دوران لوگوں سے پیسے لئے تھے ۔پارٹی کی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کیا،پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہے اور ان الزامات پر ان کا موقف جاننے کے لیے بار بار طلب کرنے پر بھی نہیں آئے۔انہوں نے کہا کہ بی ایس پی میں ڈسپلن شکنی ناقابل برداشت ہے ، اس لیے نسیم الدین اور ان کے بیٹے افضل کو پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔غورطلب ہے کہ بی ایس پی کی پچھلی حکومت میں انتہائی طاقتور وزیر رہے نسیم الدین وزیر اعلی مایاوتی کا دایاں ہاتھ مانے جاتے تھے، ان پر وزیر کے عہدے کا غلط استعمال کرکے بدعنوانی کے بھی انتہائی سنگین الزامات لگائے گئے تھے۔نسیم الدین قانون ساز کونسل میں حزب اختلاف کے لیڈر بھی رہ چکے ہیں۔