کاروار 17؍اپریل (ایس او نیوز) بچوں کو پرائمری اسکول کی اول جماعت میں داخلے کے لئے ان کی عمر 5سال 10مہینے سرکاری طور پرلازمی قرار دی گئی ہے۔محکمہ تعلیمات کی طرف سے جاری سرکیولر کے مطابق پری پرائمری(ایل کے جی) میں داخلے کے وقت بچے کی عمر 3سال 10مہینے ہونی چاہیے اوراسی مناسبت سے اول جماعت میں داخلے کے وقت کم ازکم عمر 5سال 10مہینے ہونا لازمی ہوجاتا ہے۔
بچوں کی حق تعلیم سے متعلقہ قانون آر ٹی ای 2009کی دفعہ3کے تحت 6سال سے 14سال تک کی عمر کے ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم کاحق دیا گیا ہے ۔ اس لئے کرناٹکا ایجوکیشن ایکٹ 1983کی دفعہ 20میں پہلی جماعت میں داخلے کی عمرجو 6سال رکھی گئی تھی اس میں ترمیم کرتے ہوئے 60دنوں کی کمی لائی گئی ہے اور پانچ سال دس مہینے کی حد مقرر کی گئی ہے۔
یہ قانونی ترمیم تعلیمی سال 2017-18سے سرکاری اسکولوں، سرکاری امداد اور بغیر امداد والے پرائیویٹ اسکولوں پر لاگو ہوگی۔ایک اور اہم نکتہ نوٹ کرنے کے لائق یہ ہے کہ بچے کی پیدائش سرٹی فیکٹ نہ ہونے کی وجہ سے کسی بھی اسکول میں بچے کو داخلہ دینے سے انکار نہیں کیا جا سکے گا۔ بلکہ ایسی صورت میں پیدائش تاریخ سے متعلق والدین سے تحریری بیان self declaration لے کر داخلہ دینا ضروری ہوگا۔
اس کے علاوہ 6سال سے 14سال کی عمر کے کسی بھی بچے کو اسکول میں داخلہ دینے سے انکار نہیں کیا جاسکے گا۔بچے کی عمر کے حساب سے اس جماعت میں داخلہ کرنا ضروری ہوگا۔مثلاً اگر کوئی ۹ سال کا بچہ اسکول میں داخلہ چاہتاہے، تو اس کی عمر کے حساب سے اسکول کے ہیڈ ماسٹرکو اسے چوتھی جماعت میں داخلہ دینا ہوگا ۔ اور دیگر جماعتوں میں ریگولر پڑھائی کرکے آنے والے بچوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لئے ایسے درمیانی جماعتوں میں داخلہ لینے والے بچوں کو خصوصی توجہ اور سرگرمی کے ساتھ تعلیم دینی ہوگی۔
تعلیم عامہ کے کمشنر کے بیان کے مطابق ان سرکاری احکامات کی تعمیل نہ کرنے پر یا کسی قسم کی کوتاہی سامنے آنے پر متعلقہ ہیڈ ماسٹر کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
دوسری طرف نئے تعلیمی سال کے لئے جہاں پرائیویٹ اسکولوں میں داخلے کے لئے دوڑ لگی ہوئی ہے وہیں پروالدین کی شکایت ہے کہ کئی اسکولوں میں سرکاری قوانین کو طاق پر رکھتے ہوئے ٹیوشن فیس کی مقررہ حدسے کئی گنا زیادہ رقم فیس کے نام پر ڈونیشن میں وصول کی جارہی ہے۔عام طور پر پہلی جماعت میں داخلے کے لئے 10تا 20ہزار روپے تک ڈونیشن وصول کیے جانے کی شکایات سننے میں آرہی ہیں۔حالانکہ اسکولوں میں ڈونیشن وصول کرنے کے خلاف سرکار کے سخت قوانین موجود ہیں، لیکن محکمہ تعلیم کے افسران کی خاموشی کو نیم رضامندی مان کراکثر اسکولوں میں من چاہے طریقے سے بھاری ٹیوشن فیس اور اسکول بیٹر منٹ فیس یا دوسرے الفاظ میں ڈونیشن وصول کیا جارہا ہے۔بعض اسکولوں میں اس طرح کے عطیہ جات کے لئے رسیدیں بھی نہ دینے کی خبر سننے میں آرہی ہے۔