بھٹکل 8/مئی (ایس او نیوز) بھلے ہی نیشنل ہائی وے پر پولس کا سخت پہرہ ہو، سی سی ٹی وے کیمرے لگے ہوئے ہوں اور پولس کی گاڑیاں دندناتی پھرتی رہتی ہوں، اس کے بائوجود چور اپنا کام کرہی جاتے ہیں اور پولس کو کانوں کان خبر تک نہیں ہوتی، اسی طرح کا تازہ واقعہ آج پیر کو منظر عام پر آیا جب جالی کراس سے کچھ ہی فاصلے پر نیشنل ہائی وے کے کنارے پارک کی گئی دو ٹپر لاریوں سے بیٹریاں چراکر چور رفو چکر ہوگئے۔
لاری مالک فرحان پٹیل نے بتایا کہ دونوں لاریاں ہمیشہ کی طرح وہ کل اتوارکی شام کو اپنی دکان کے باہر نیشنل ہائی وے کے کنارے پارک کرکے رکھی تھی، آج صبح جب لاری کو نکالنے کے لئے ڈرائیور نے چابی گھمائی تو پتہ چلا کہ لاری میں بیٹری ہی نہیں ہے، کچھ ہی فاصلے پر پارک کی گئی دوسری ٹپر لاری کی جانچ کی گئی تو پتہ چلا کہ اُس کی بھی بیٹری چوری ہوچکی ہے۔ فرحان کے مطابق ایک بیٹری کی قیمت 12 ہزار روپئے ہے۔
فرحان کو تعجب اس بات پر ہے کہ جس جگہ ٹپر لاریاں پارک کی گئی ہیں، اُس سے تھوڑے ہی فاصلے پر سی سی ٹی وی کیمرہ نصب ہے، مگر غالباً چوروں کو پہلے ہی پتہ تھا کہ یہ کیمرہ کام نہیں کررہا ہے، اس لئے کیمرہ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے آسانی کے ساتھ دونوں لاریوں سے بیٹریاں چرا کر چور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ فرحان کو تعجب اس بات پر بھی ہے کہ پولس گاڑیوں کے نیشنل ہائی وے پر مسلسل گشت کرنے کے بائوجود چوریاں کیسے انجام دی جاتی ہیں۔
واقعے کی جانکاری ملتے ہی ٹائون پولس کے اہلکار موقع پر پہنچے اور جائزہ لینے کے بعد معاملہ درج کرلیا۔
اس سے پہلے بھی ہوئی تھی چوری: فرحان کے مطابق کچھ ماہ قبل اسی جگہ پارک کی ہوئی ایک ٹپر لاری کے تین پہئے ، ایک بیٹری اور قریب آٹھ ہزار کا ڈیزل چوری کرکے لُٹیرے فرار ہوگئے تھے، فرحان کے بقول جب اس تعلق سے انہوں نے پولس تھانہ میں شکایت درج کرنے کی کوشش کی تو پولس نے اُنہیں مشورہ دیا تھا کہ وہ اس چوری کے تعلق سے شکایت درج نہ کرائیں ، ہم چوروں کو ایسے ہی پکڑ لیں گے۔ مگر چوروں کو پکڑنا تو دور کی بات، اب مزید چوریوں کی واردات پیش آئیں ہیں۔
خیال رہے کہ لاری کے ایک ٹائر کی قیمت 25 ہزار روپئے ہے۔