نئی دہلی،31؍جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)کانگریس صدر سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر اور پارٹی کے سینئرحکمت عملی ساز احمد پٹیل راجیہ سبھا میں پھر پہنچنے کے لیے بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی)کے صدر امت شاہ کی جانب سے اپنی زندگی کا سب سے بڑا تنازعہ جھیل رہے ہیں۔ایک خصوصی انٹرویومیں انہوں نے مجھ سے کہاکہ(امت)شاہ کو مجھ ذاتی طور پر پریشانی ہے اور اسی لیے وہ تمام طرح کے ہتھکنڈے اپنارہے ہیں جومیں نے اپنے 40سال کے سیاسی زندگی میں کبھی نہیں دیکھے، تاکہ میری ہار یقینی ہو سکے،پیسہ،باہوبلی ،بس،آپ نام لیجئے، انہوں نے سب استعمال کیاہے۔ان کا اشارہ ان ممبران اسمبلی کی طرف تھا، جس میں8اگست کوہونے جارہے راجیہ سبھا انتخابات سے پہلے گزشتہ ہفتے کانگریس سے بی جے پی میں شامل ہوئے۔گجرات میں اس وقت راجیہ سبھا کی تین نشستوں کے لئے انتخابات ہونا ہے۔ان میں سے دو سیٹوں پر امت شاہ اور مرکزی وزیراسمرتی ایرانی آسانی سے جیت جائیں گے اور تیسری نشست پر احمد پٹیل دوڑ میں ہیں۔کانگریس کے چھ ممبران اسمبلی نے پارٹی چھوڑ دی ہے اور اس سے زیادہ لوگوں کے چھوڑ جانے سے بچنے کے لئے کانگریس نے تقریبا 40دیگر ممبران اسمبلی کو بنگلور کے ایک ریزروٹ میں بھیج دیا ہے، جہاں وہ اس وقت تک رہیں گے، جب تک پارٹی کو انہیں ووٹنگ کے واپس گجرات لانا محفوظ نہیں لگے گا۔پانچویں مرتبہ راجیہ سبھا میں پہنچنے کی کوشش کر رہے کانگریس لیڈر احمد پٹیل بھی دوسرے پارٹی رہنماؤں کی ہی طرح کہتے ہیں کہ بی جے پی ’’بلیو دی بیلٹ‘‘حملہ کر رہا ہے اور بڑے بڑے انعاموں کا لالچ دینے کے علاوہ دھمکیاں بھی دے رہی ہے، تاکہ ان کے حق میں دل بدل ہو سکے۔اتوار کی شام مجھ سے بات کرتے ہوئے احمد پٹیل نے کہا کہ انہیں یہ نہیں معلوم ہے کہ بی جے پی سربراہ ان کے خلاف کیوں ہیں۔انہوں نے کہا کہ پلیز، مسٹر شاہ سے جاکر پوچھئے ... مجھے نہیں معلوم ہے ... میں نے کبھی ایسا کچھ نہیں کیا، جو انہیں ذاتی طور پر نقصان پہنچا سکتا ہو ۔