بنگلور،7؍مئی(ایس او نیوز) سابق ریاستی وزیر وحلقہ چامراج پیٹ کے رکن اسمبلی بی زیڈ ضمیر احمد خان نے آج واضح طورپر کہا کہ وہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں کانگریس امیدوار کے طورپر اپنے حلقہ چامراج پیٹ سے انتخابات میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنتادل(سکیولر) کے قومی سربراہ وسابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوے گوڈا اور ریاستی صدر ،سابق وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے انہیں اور ان کے دیگر ساتھی اراکین اسمبلی این چلوارایا سوامی،بال کرشنا، اکھنڈ سرینواس مورتی سمیت ساتوں کو پارٹی سے بے دخل کردیاہے۔ وہ دوبارہ انہیں پارٹی میں ہرگز واپس لینے والے نہیں ہیں۔ اس لئے انہوں نے اپنے سیاسی مستقبل کو مد نظر رکھ کر کانگریس پارٹی میں شمولیت کا فیصلہ کیاہے اور آنے والے ریاستی اسمبلی انتخابات کے دوران وہ اپنے ہی حلقہ سے کانگریس امیدوار کے طورپر اپنی قسمت آزمائیں گے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے کانگریس پارٹی کے نائب صدر راہل گاندھی سے بھی بات چیت کی ہے۔ ضمیر احمدخان نے کہا کہ کمار سوامی دوبارہ وزیراعلیٰ بننے کا خواب دیکھنے لگے ہیں۔ اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے دن رات اپنی کوششوں کو ابھی سے شروع کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف کمار سوامی سمجھوتہ کے متعلق بات کرتے ہیں دوسری طرف کسی بھی پارٹی سے سمجھوتہ نہ کرنے کی بھی باتیں کرنے لگے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کمار سوامی اپنے پارٹی کے ایسے100امیدواروں کو پیش کریں جوحقیقی طورپر کامیابی حاصل کرسکتے ہوں۔ انہوں نے صاف طورپر کہا کہ جنتادل( سکیولر) کسی بھی صورت میں برسراقتدار نہیں آسکتی۔ ضمیر احمدخان نے کہا کہ وہ جنتادل (سکیولر) پارٹی کو کبھی فراموش نہیں کریں گے کیونکہ آج وہ سیاسی طورپر جس مقام پر ہیں وہ صرف جنتادل(سکیولر) کی ہی دین ہے۔ لیکن افسوس کے اس پارٹی نے ان کی قربانیوں کو نظر انداز کرکے فراموش کردیاہے۔ لیکن وہ کبھی بھی جنتادل( سکیولر) پر انگلی نہیں اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جنتادل (سکیولر) کے قومی سربراہ ایچ ڈی دیوے گوڈا سبھی کو ساتھ لے کر چلنے والے قائد ہیں لیکن کمار سوامی پہلے جس طرح کی دوستی نبھائی تھی اس کو ختم کردی ہے وہ اور کمار سوامی یک ہی برتن میں کھانا کھایا کرتے تھے۔ لیکن کمار سوامی کی انانیت کی وجہ سے انہوں نے کنارہ کشی اختیار کرلی ہے۔ انہوں نے کمار سوامی کو چیلنج کیا کہ وہ پارٹی میں ضمیر جیسے ایک لیڈر کو پیش کرکے دکھائیں۔ تقدیر کی باتیں کرنے والے کمار سوامی کو پتا ہونا چاہئے کہ تقدیر یں لکھنے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے وہ چاہئے تو آن کی آن میں اقتدار سونپ سکتا ہے اور اسی طرح چھین بھی سکتا ہے۔ کمار سوامی کسی کی تقدیر لکھنے والے قائد نہیں ہیں۔ اس بات کو انہیں اچھی طرح ذہن نشین کرلینی چاہئے۔ضمیر احمد خان نے کہا کہ راجیہ سبھا انتخابات کے بعد انہیں پارٹی سے معطل کردیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وظیفہ یاب پولیس افسر جی اے باوا کو ان کے خلاف جنتادل( سکیولر) امیدوار کے طورپر میدان میں اتارنے کی کوششیں ابھی سے ہونے لگی ہیں۔ کمار سوامی کو پتا ہونا چاہئے کہ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں انہوں نے جتنے ووٹ کے فرق سے جیت حاصل کی تھی اتنے ووٹ جی اے باوا نے حاصل نہیں کئے تھے اور وہ ڈپازٹ تک کھوچکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چامراج پیٹ حلقہ کے بیٹے بن چکے ہیں ۔ اس لئے اگلے اسمبلی انتخابات میں بھی انہیں بھاری اکثریت ہی سے منتخب کرنے کی کافی زیادہ امیدیں وابستہ ہیں۔ اس موقع پر کارپوریٹر عمران پاشاہ، نامزد کارپوریٹران سید مجاہد، ہدایت اللہ، جاوید پٹیل،ایاز خان، ایوب خان، سابق کارپوریٹر، عارف پاشاہ، شیوا، گوند راج،آتوش، ضیاء اللہ، ذوالفقار احمد خان ٹیپو، عاصم پاشاہ، الطاف پاشاہ، اولہلی ذبیح، شکیب خان،خلاصی پالیم ایوب، منصور خان، رضوان خان، شیخ بابا بھی موجود تھے۔