نئی دہلی، 12؍مئی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم)کی معتبریت کو لے کر مختلف سیاسی پارٹیوں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے تناظر میں مرکزی الیکشن کمیشن کی طرف سے طلب کردہ کل جماعتی میٹنگ میں چیف الیکشن کمشنر ڈاکٹر نسیم زیدی نے تمام پارٹیوں کے لیڈروں سے خطاب کرتے ہوئے ای وی ایم سے کسی طرح کی چھیڑ چھاڑ کے امکان سے واضح طورپر انکار کیا۔میٹنگ میں ای وی ایم اور اس کی سیکورٹی کے معیار پر مبنی ایک پریزنٹیشن بھی دیا گیا، جس کے ذریعے یہ دکھایا گیا کہ موجودہ ای وی ایم مشینوں سے چھیڑچھاڑنا ممکن ہے اور اس کو لے کر اٹھ رہے سبھی خدشات بے بنیاد ہیں۔اس کے ساتھ ہی کمیشن نے ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کو ثابت کرنے کے لیے دو دنوں کا وقت دیا۔کمیشن نے کہا کہ اگر کسی کو اندیشہ ہے تو وہ اگلے دو دنوں میں ووٹنگ مشین کو ہیک کر کے دکھائے۔میٹنگ میں بی جے پی کی جانب سے بھوپندر یادو، جی وی ایل نرسمہا راؤ اور اوم پاٹھک ، کانگریس کی طرف سے وو یک تنکھا، وپل مہیشوری اور دیپک امین، آپ سے منیش سسودیا، سوربھ بھاردواج اور گوپال موہن، جے ڈی یو سے کے سی تیاگی ، آر جے ڈی سے منوج جھا، بی ایس پی سے ستیش چندر مشرا، اے آئی اے اے ڈی ایم کے سے تھمبی درئی اور میترین، این سی پی سے ڈی پی ترپاٹھی، اکالی دل سے منجیندر سنگھ سرسا اور ایس ایس ڈھنڈھسا، سی پی ایم سے نیلوتپل باسو، سی پی آئی سے اتل انجان اور بیجو جنتا دل سے پناکی مشرا شامل ہیں۔اکالی دل کے سینئر لیڈر منجیندر سنگھ سرسا نے میٹنگ سے باہر آنے کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا کہ میٹنگ میں ان سوالات پر وضاحت پیش کی گئی ، جو گزشتہ دنوں میں مختلف پارٹیوں کی جانب سے اٹھائے گئے تھے۔سرسا نے بتایا کہ ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ ثابت کرنے کے لیے الیکشن کمیشن نے 14؍مئی کی تاریخ طے کی ہے۔سرسا نے کہا کہ میٹنگ میں ابھی پریزنٹیشن کے ذریعے یہ دکھایا گیا کہ وی وی پیٹ مشین آنے کے بعد کس طرح سے پولنگ کا عمل ہوگی اور اگر پھر بھی کسی کو شکایت ہوگی تو کس طرح وہ اپنی شکایت درج کروا سکتے ہیں۔وہیں، جے ڈی یو لیڈر کے سی تیاگی نے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر نسیم زیدی کی تقریر کے بعد آئی آئی ٹی کے ماہرین بتا رہے ہیں کہ کس طرح ای وی ایم ٹیمپرپروف ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ عام آدمی پارٹی کے لیڈر سوربھ بھاردواج کے دعووں سے شک تو پیدا ہوا ہی ہے،میٹنگ میں سات قومی اور 35علاقائی پارٹیاں حصہ لے رہے ہیں۔میٹنگ کے دوران الیکشن کمیشن نے سبھی پارٹیوں سے کہا ہے کہ جب بھی ای وی ایم کو لے کر سوال کھڑے ہوئے ہیں، ان تمام سوالات کا کمیشن نے جواب دیا ہے۔