ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / عبدالجلیل کروپاڈی مرڈر کیس:کیا ہندودہشت گردوں کو بچانے کے لئے پولیس انڈر ورلڈ کا نام لے رہی ہے؟!

عبدالجلیل کروپاڈی مرڈر کیس:کیا ہندودہشت گردوں کو بچانے کے لئے پولیس انڈر ورلڈ کا نام لے رہی ہے؟!

Wed, 03 May 2017 12:57:01    S.O. News Service

منگلورو3؍مئی (ایس او نیوز)کروپاڈی گرام پنچایت کے نائب صدر عبدالجلیل کا دن دہاڑے ان کے دفتر میں ہی بہیمانہ قتل ضلع جنوبی کینرامیں امن و امان کی صورتحال پر ایک سوالیہ نشان بن کر سامنے آیا ہے۔حالانکہ ایک ہفتے بعد ہی سہی پولیس نے مبینہ طورپرقتل میں ملوث 11ملزمین کو گرفتا ر کر لیا ہے ، اور اسے سیاسی رقابت کے پس منظر میں انڈر ورلڈ کے ایک گُرگے وکّی شیٹی کی ایماء پر انجام دی گئی واردات بتایا ہے۔ لیکن عوام کے اندر پولیس کے اس نقطۂ نظر سے اختلاف پایا جاتا ہے اور یہ چہ میگوئیاں ہورہی ہیں کہ پولیس نے ہندو دہشت گردوں اور ان کی تنظیموں کو بچانے کے لئے اس قتل کو انڈرورلڈ سے جوڑ کر پیش کیا ہے۔

عوام کے اس طرح سوچنے کی وجوہات بھی موجود ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ ہے جن لوگوں کو بھی پولیس نے اس معاملے میں گرفتار کیا ہے ، ان میں سے بیشتر سنگھ پریوار کے بہت ہی متحرک اور دہشت پھیلانے کے لئے جانے مانے رضاکار ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ قتل کے سلسلے میں چند ملزمین کی گرفتاری کے ساتھ ہی جنوبی کینرا کے ایک معتبر ویب سائٹ پر جو پہلی نیوز آئی تھی ، اس میں صرف یہ بات موجود تھی کہ ہندو لڑکی اور مسلم لڑکے کے عشق کے معاملے میں عبدالجلیل نے مسلم لڑکے کا جو ساتھ دیا تھا ، اس کا بدلہ لینے کے لئے سنگھ پریوار سے وابستہ شدت پسندوں نے یہ کارروائی انجام دی تھی۔ مگر محض دو گھنٹے بعد اس نیوز سے ہندتو وادی ملزمین کی طرف اشارہ ہٹادیا گیا تھا، اور اس قتل کے لئے دوسری وجوہات شامل کی گئی تھیں۔

پھر اس کے بعد پولیس نے دھیرے دھیرے اس قتل کو انڈر ورلڈ سے جوڑنا شروع کیا اور اسے سیاسی رقابت اور چپقلش کے زاویے سے پیش کرنا شروع کیا۔جب کہ انڈرورلڈ کے وکّی شیٹی نے اس قتل میں اپنا ہاتھ ہونے سے انکار کردیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ عوام یہ سوچنے لگے ہیں کہ ریاست میں کانگریس کی حکومت ہونے کے باوجود ایک کانگریسی لیڈر کا قتل ہوتا ہے اور اسے صحیح معنوں میں انصاف دلانے کے بجائے پولیس اور فرقہ پرست تنظیموں کی ملی بھگت سے تحقیقات کو دوسرارخ دینے اور سنگھ پریوار سے وابستہ تنظیموں کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ خیال رہے کہ بھٹکل کے ایک سپوت معروف وکیل نوشاد قاسمجی کے قتل کے سلسلے میں بھی جب انڈرورلڈ کے گرگوں کو گرفتار کیا گیا تھا، تو عوام کے یہی جذبات تھے ،کہ یہ قتل بھی سنگھ پریوار اور پولیس کے بعض افسران کی ملی بھگت سے انجام دیا گیاہے ، مگر پولیس نے اس معاملے کو انڈر ورلڈ سے جوڑ کر مقتول نوشاد قاسمجی کے ساتھ بھی ناانصافی کا معاملہ کیا تھا۔

عبدالجلیل کروپاڈی کے معاملے میں عوام کا مطالبہ ہے کہ ریاستی کانگریسی حکومت اس کیس کے حقیقی مجرموں کے چہرے سے پردہ ہٹانے کے لئے کسی اعلیٰ تحقیقاتی ایجنسی کے ذریعے جانچ یا کسی ریٹائرڈ جج سے عدالتی تحقیقات کروائے اور مقتول کو صحیح معنے میں انصاف دلانے کاکام کرے۔


Share: