کاروار 8؍مئی (ایس او نیوز) ضلع شمالی کینرا میں پانی کی قلت اور قحط سالی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہ نشست میں ضلع انچارج وزیر مسٹر دیشپانڈے نے افسران کو تاکید کی ہے کہ کسی بھی حالت میں عوام کو پینے کے پانی اور جانوروں کے چارے کے لئے کسی بھی قسم کی پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔
اس میٹنگ میں ضلع ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ فی الحال ضلع کے 66گاؤں میں ٹینکروں سے پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔جن 4مقامات پر پانی کی قلت ہے ، وہاں پر ایک نوڈل افیسر کو متعین کرتے ہوئے وہاں کے مسائل حل کرنے کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ہر سوموار کی شام 5.30بجے تمام تعلقہ جات میں موجود افسران سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پانی کی صورتحال سے متعلق جانکاری لیتے ہوئے مسائل حل کرنے کے سلسلے میں ان کی رہنمائی کی جاتی ہے۔اس کے علاوہ انہوں نے بتایا کہ پانی کی فراہمی کے لئے 212منصوبوں کو اجازت دی گئی ہے جس میں سے 198کام پورے ہوچکے ہیں۔پانی کی فراہمی کے لئے 58نجی بورویلس کو کرایے پر لیا گیا ہے۔ضلع میں جانوروں کے لئے چارہ بینک ہلیال تعلقہ میں قائم کیاگیا ہے۔ اور فی الحال59800ٹن چارہ کا ذخیرہ موجود ہے جوآئندہ ایک مہینے کے لئے کافی ہے۔
وزیر آر وی دیشپانڈنے بتایا کہ پانی کی فراہمی کے لئے ہر تحصیلدار کے اکاؤنٹ میں 25لاکھ روپے پیشگی رقم کے طور پر جمع کردئے گئے ہیں۔پینے کے پانی کے منصوبوں کے لئے فنڈ کی کوئی کمی نہیں ہے۔افسران کے لئے ضروری ہے کہ وہ پوری احساس ذمہ داری کے ساتھ اس طرف توجہ دیں۔ اس کے علاوہ افسران مسلسل دورے کرتے ہوئے حالات پر پوری طرح نظر بنائے رکھیں۔وزیر موصوف نے تاکید کی کہ افسران انتہائی شدید ضرورت کے بغیر 10جون تک چھٹیوں پر نہ جائیں۔ انہوں نے تنبیہہ کرتے ہوئے کہا کہ پانی کے سلسلے میں کہیں سے کوئی شکایت ملتی ہے تو اس کی پوری ذمہ داری وہاں کے تحصیلدار کو اپنے سر لینی پڑے گی۔
اس میٹنگ ضلع پنچایت صدر جئے شری موگیر،ایم ایل اے منکال وئیدیا،شیورام ہیبار، ایس ایل گھوٹنیکر،ضلع پنچایت نائب صدر سنتوش رینکے،سی ای او مسٹر ایل چندرا شیکھرنائک کے علاوہ مختلف محکمہ جات کے افسران موجود تھے۔