اسلام آباد،3؍مئی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)پاکستانی وزیر اعظم کی بیٹی مریم نواز شریف نے گزشتہ روز سوشل میڈیا پر اس وقت ہل چل مچا دی جب انہوں نے پاناما پیپرز سے متعلق ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ان کا تعلق کرپشن اور بدعنوانی سے نہیں ہے۔مریم نواز شریف کی جانب سے تحریر کی گئی ٹوئٹس میں انہوں نے یہ پیغام دیا کہ وہ افراد اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوں گے جو پاناما پیپرز کے ذریعے وزیر اعظم کو ان کے عہدے سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ مریم نواز نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا تھا،’’ پاناما پیپرز کا تعلق کبھی بھی بدعنوانیوں سے نہیں تھا۔ چوریاں کرنے والے اور ہیکنگ کرنے والوں (پیپرز منظر عام پر لانے والوں) نے بھی ایسا نہیں کہا تھا۔ شکست خوردہ افراد اب سن 2018 کے انتخابات میں ناکامی کے خطرے سے دوچار ہیں۔‘‘مریم نواز نے اپنی اگلی ٹوئٹ میں لکھا،’’ آپ پاناما پیپرز کو خیبر پختونخواہ میں اپنی ناقص کارکردگی کے نعمل البدل کے طور پر پیش نہیں کر سکیں گے۔‘‘
اپند ٹوئٹس سے بظاہر پاکستان تحریک انصاف کو نشانہ بنانے کے بعد مریم نواز نے ایک اور ٹوئٹ میں پاناما پیپرز کی کہانی کو منظر عام پر لانے والے صحافیوں پر تنقید کرتے ہوئے لکھا،’’ ان صحافیوں کی تکلیف سمجھ میں آتی ہے جو پاناما پیپرز کی کہانی منظر عام پر لائے تھے۔ ان کے حکومت کو گرانے کے ظاہری اور باطنی اقدامات صفر ہوگئے ہیں۔‘‘مریم نواز شریف کی جانب سے ٹوئٹس کے اس سلسلے کا جواب پاناما پیپرز کی کہانی شائع کرنے والے پلٹزر ایوارڈ یافتہ جرمن صحافی باست کان اوبرمائر نے دیا۔ مریم نواز کی ٹوئٹ کے جواب میں اس صحافی نے لکھا،’’ مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے لیکن پاناما پیپرز بدعنوانیوں کے بارے میں ہی ہیں۔ ہمیں دستاویزات میں بدعنوانیوں کے بے پناہ کیسز ملے ہیں جو سب حقیقت پر مبنی ہیں۔‘‘
مریم نواز نے اس صحافی کو جواب دیتے ہوئے ٹوئٹ میں لکھا،’’ میں تمہارے اور تہمارے پاکستانی ہم منصبوں کے درمیان تعلق کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی افسوس ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف سازش کا حصہ بن گئے۔‘‘ مریم نواز نے ایک اور ٹوء?ٹ میں انٹرنیشنل کنسورشیم آف انوسٹیگیٹو جرنلسٹس کی ویب سائٹ سے ایک تصویر شائع کی جس میں تحریر تھا کہ آئی سی آئی جے نے جو تحقیقات کی ہیں، ان کا یہ مطلب نہیں کہ ان افراد، کمپنیوں اور تنظیموں نے قانون توڑا ہے یا غیر اخلاقی کام کیا ہے۔‘‘اوبرمائر نے اس کے جواب میں لکھا،’’ صحافت کا کام حکومتوں کو گرانا نہیں۔ اس کا کام سچ پہنچانا ہے۔