سری نگر ، 8 ؍مئی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)جموں و کشمیر کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے قومی میڈیا سے آج اپیل کی کہ وہ تمام کشمیری نوجوانوں کو پتھراؤ کرنے والوں کی طرح پیش کرنے سے گریز کرے اور ریاست کے لوگوں کے خلاف نفرت پیدا کرنے والی بات چیت نہ دکھائے۔انہوں نے کہا کہ 1947کے بعد سے کشمیر نے بدترین دن دیکھے ہیں اور انہوں نے کشیدگی سے دوچار وادی میں امن کی واپسی کی امید ظاہر کی۔واضح رہے کہ وادی میں گزشتہ تقریبا دو ماہ سے مسلسل احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔محبوبہ نے یہاں سول سکریٹریٹ کھولے جانے پر صحافیوں سے کہا ، ہم سبھی جموں و کشمیر کے حالات کو لے کر فکر مند ہیں، لیکن ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ یہ پہلی بار نہیں ہوا، 1947کے بعد سے کئی بار جموں و کشمیر کو برے دور سے گزرنا پڑا ہے، آج ہم پھر دوراہے پر کھڑے ہیں۔جموں و کشمیر میں سول سکریٹریٹ کا کام کاج موسم گرما میں 6 ماہ یہاں سے اور موسم سرما میں 6 ماہ جموں سے ہوتا ہے۔محبوبہ نے 1950سے کشمیر میں شروع ہوئی ریفرنڈم تحریک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ 22سالوں تک چلتی رہی ،لیکن مرکزی قیادت سمجھتی ہے کہ یہ مسئلہ تشدد سے نہیں حل کیا جا سکتا۔انہوں نے کہاکہ اندرا-شیخ سمجھوتہ ہوا، 1990سے پھر صورت حال سنگین ہو گئی،کئی بار دہشت گردی بڑھ جاتی ہے اور کئی بار اس میں کمی آجاتی ہے۔انہوں نے صورت حال کے دوبارہ بہتر ہونے کی امید ظاہرکی ۔وزیر اعلی نے کہا کہ وادی کے تمام نوجوان پتھراؤ کرنے والے نہیں ہیں۔انہوں نے کہاکہ میں قومی میڈیا، الیکٹرانک میڈیا سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ ٹیلی ویژن پر ایسی بحثیں نہ دکھائے ،جن سے ملک بھر میں جموں و کشمیر کے لوگوں کے خلاف نفرت پیدا ہوتی ہے۔کچھ لوگ ہیں جو پتھراؤ کرتے ہیں لیکن کشمیر کے تمام نوجوان پتھراؤ کرنے والے نہیں ہیں۔