اسلام آباد 30؍جولائی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا): حکمران جماعت مسلم لیگ نون نے نواز شریف کی نااہلی کے بعد شہباز شریف کومتبادل وزیراعظم بنانے کایصلہ کیاہے۔شہبازشریف کے قومی اسمبلی کا ممبر منتخب ہونے تک شاہد خاقان عباسی عبوری وزیر اعظم ہوں گے۔دوسری جانب صدر مملکت نے یکم اگست کو تین بجے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا جس میں وزیراعظم پاکستان کا انتخاب ہو گا۔اتوار3بجے سہ پہر تک سیکریٹری قومی اسمبلی کے دفتر سے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی حاصل کیے جا سکتے ہیں جوپیرکودوبجے تک وصول کیے جائیں گے اور تین بجے سپیکر قومی اسمبلی کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کریں گے۔سنیچرکومیاں نواز شریف نے پارلیمانی اجلاس سے خطاب کے دوران اپنے بعد شہباز شریف کو بطور وزیرِ اعظم نامزد کرتے ہوئے جماعت سے ان کی حمایت کا مطالبہ کیا۔انھوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے انتخابات لڑنے کے بعد شہباز شریف وزیرِاعظم بنیں گے تب تک کے لیے شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم نامزد کرتا ہوں۔ خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے وزیراعظم اور ان کے بچوں کے خلاف پاناما کیس کے متفقہ فیصلے میں نہ صرف وزیراعظم کو نا اہل قرار دیا بلکہ نواز شریف سمیت ان کے خاندان کے افراد کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔مسلم لیگ نواز کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کا موقف تھا کہ انھیں آئندہ انتخابات تک پارٹی کو لے کر جانا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ ایسی متبادل قیادت چاہتے ہیں جو پارٹی کو اکٹھا رکھ سکے۔اس موقع پر انھوں نے اپنے متبادل وزیراعظم کے طور پر اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف کا نام پیش کیا جسے متفقہ طورپرمنظور کر لیا گیا لیکن چونکہ شہباز شریف رکن قومی اسمبلی نہیں ہیں اس لیے پہلے اجلاس میں اس نام پر اتفاقِ رائے نہیں ہوسکاکہ شہباز شریف کے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنے تک وزیراعظم کسے بنایا جائے گا۔ذرائع کے مطابق جمعے کی شام مسلم لیگ نوازکے اجلاس میں جس موضوع پر سب سے زیادہ گفتگو ہوئی وہ مسلم لیگ نواز کو جماعت کے طور پر یکجا اور متحرک رکھناتھا۔اجلاس میں موجود بعض مسلم لیگی رہنماؤں کے مطابق نواز شریف اس بات پر بہت یکسوئی کے ساتھ گفتگوکرتے اورمشورے سنتے رہے کہ کس طرح پارٹی کو فعال رکھا جائے۔اس حوالے سے ایک تجویز جسے سب سے زیادہ پذیرائی ملی وہ نواز شریف اور اہل خانہ کی فوری طور پر بذریعہ سڑک لاہور جانے کی تھی۔اس تجویز کے پیچھے حکمت یہ بتائی گئی کہ اس طرح سے مسلم لیگ اس ”غیرمنصفانہ“فیصلے کے خلاف عوامی احتجاج بھی کرسکے گی اور عوام کو بھی متحرک کیا جا سکے گا۔یہ تجویزتوسکیورٹی اور بعض دیگر خدشات کے باعث مسترد کر دی گئی لیکن اس کے بعد بھی بہت سی تجاویز آئیں جن کامرکزیہی نکتہ رہاہے کہ پارٹی کو اکٹھا رکھا جائے۔مسلم لیگ کے معاملات کو قریب سے جاننے والے صحافی عارف نظامی کہتے ہیں کہ وزارت عظمیٰ سے علیحدگی کے بعد نواز شریف کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ پارٹی کے معاملات کو کسی صورت ہاتھ سے نہ نکلنے دیں۔نواز شریف اس بات کو سمجھتے ہیں کہ ان کے لیے پارٹی کو یکجا رکھنا ان کے مستقبل کے لیے بہت ضروری ہے۔ وہ اس بات پر خاصے کلئیر ہیں کہ حکومت تو چلی گئی ہے لیکن پارٹی ہاتھ سے نہیں جانی چاہیے۔ذرائع کاکہناہے کہ جس دوران شہبازشریف کی نامزدگی کے بارے میں بات چل رہی تھی تو چوہدری نثار اجلاس سے اٹھ کرچلے گئے۔