ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / چھوٹے گھرانوں کے 6ہونہارطلبہ جو ایس ایس ایل سی میں صرف 1مارک سے پیچھے رہ گئے

چھوٹے گھرانوں کے 6ہونہارطلبہ جو ایس ایس ایل سی میں صرف 1مارک سے پیچھے رہ گئے

Sun, 14 May 2017 10:54:59    S.O. News Service

بنگلورو 13؍مئی (ایس او نیوز) چھوٹے چھوٹے گاؤں اور کم سہولتوں والے گھرانوں کے بچے محض اپنے شوق اور نظم و ضبط کی وجہ سے کس طرح تعلیمی میدان میں کار ہائے نمایاں انجام دیتے ہیں، اس کی ایک مثال امسال کے ایس ایس ایل سی نتائج میں سامنے آئی ہے۔ریاست میں ٹاپ کرنے والے طلبہ کی جب فہرست دیکھتے ہیں توسوچناپڑتا ہے کہ ہماری اپنی کمیونٹی کے طلباء تمام تر سہولتوں ااور مادی وسائل کے باوجود کیوں اس طرح کی کامیابی درج نہیں کرپاتے۔

امسال کے نتائج میں ریاست کے 6ہونہارطلبہ ایسے ہیں جو صرف ایک مارک سے صد فی صد مارکس لینے اور ٹاپر ہونے کا ریکارڈ بنانے سے محروم ہوگئے ، یعنی انہوں نے 625مارکس میں سے624مارکس حاصل کیے ۔ ان کی تعلیمی زندگی، محنت اور حالات پر ایک نظرڈالنا شاید کسی اور طالب علم اور اس کے والدین کے لئے دل میں نیا عزم جگانے کا سبب بن جائے۔

bengaluru_sslc_st1.jpg

1۔جیانی آر ناتھ: سینٹ ایگنیزاسکول منگلورو کی طالبہ ہے۔حالانکہ وہ صرف ایک مارک سے ٹاپ نمبر پانے میں ناکام رہی ، مگر624مارکس پانا بھی اس کے لئے انتہائی حیرت اور خوشی کا سبب بنا۔ جیانی کہتی ہے کہ : "میں روزانہ تین سے چار گھنٹے پوری سنجیدگی کے ساتھ پڑھائی کیا کرتی تھی۔میں پورے نظم و ضبط کے ساتھ پڑھائی کرتی اور اساتذہ کی رہنمائی حاصل کیا کرتی تھی، جس کا ثمرہ مجھے ملا ہے۔"جیانی مستقبل میں ایک ڈاکٹر یا آرکی ٹیکٹ بننا چاہتی ہے۔

2۔ نندنی ایم نائک: دوسری طالبہ ہے جس نے 624مارکس حاصل کیے ۔یہ کنداپور کی رہنے والی ہے۔ نرملا کانوینٹ اسکول کی اس طالبہ کے والد کا10سال پہلے انتقال ہوگیا تھا۔ تب سے اس کی ماں آنگن واڈی میں ملازمت کرتی ہے اور یہ لڑکی گھریلو کام کاج میں اپنی ماں کا ہاتھ بٹاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پوری محنت سے پڑھائی بھی کیا کرتی ہے۔ تمام مضامین میں اس نے صد فی صد مارکس لیے سوائے سائنس کے جہاں ایک مارک کم ہوگیا۔نندنی کہتی ہے کہ جو بھی مشکل ہوتی تھی اسے اپنے ٹیچرس کے سامنے رکھتی اور حل کرلیا کرتی تھی۔ اس کے علاوہ اس کے دادا بھی اس کی بڑی مدد کیاکرتے تھے۔اس کا کہنا ہے کہ اس کی ایک بہن انجینئرنگ کی طالبہ ہے ، اس لئے وہ خود میڈیسن کی فیکلٹی میں جانا پسند کرتی ہے۔

3۔ سونالی برادر:یہ کلبرگی(گلبرگہ) کی طالبہ ہے۔اس نے اپنے طور 96%مارکس پانے کی امیدباندھ رکھی تھی، لیکن اس پر قدرت مہربان ہوگئی اور وہ صد فی صد مارکس سے صرف ایک مارک دور رہ گئی تو اس کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا۔سونالی کوسنور میں واقع چندرکانت پاٹل پبلک اسکول کی طالبہ ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے ایکسٹرا کوچنگ کے لئے کوئی ٹیوشن کلاس جوائن نہیں کی تھی۔اور خود ہی آن لائن ویڈیوز کے ذریعے اپنے آپ کو امتحان کے لئے تیار کیا تھا۔اس کے والد ایک دال کی مل چلاتے ہیں۔ سونالی کا سپنا ایک ڈاکٹر بننے کا ہے۔

4۔ ایشورا سیتا رام جوشی: ضلع شمالی کینراکمٹہ تعلقہ کے مرور نامی گاؤں میں پرگتی ودیا لیہ کا طالب علم ہے۔اس نے بھی تمام مضامین میں صد فی صد مارکس لیے مگر سائنس میں ایک مارک کم ہوگیا۔ اس طرح یہ بھی ٹاپر بننے سے رہ گیا۔ اس طالب علم کے والد ایک پجاری ہیں اور ماں ایک چھوٹا سا بزنس چلاتی ہے۔ ایشورا آگے چل کر انجینئر بننے کا خواب دیکھ رہا ہے۔

4۔ ہیمنت لکشمی نارائن شاستری: یلاپور کے قریب منچے کیری کے راجہ راجیشوری اسکول کا طالب علم ہے۔اس نے بھی 624مارکس حاصل کیے۔ حالانکہ اس نے کوئی پرائیویٹ ٹیوشن کلاس جوائن نہیں کی تھی، مگر چونکہ اس کے والدسرکاری کالج میں لیکچراراور والدہ ایک پرائمری اسکول کی ہیڈ مسٹریس ہیں اس لئے وہی اس کے ٹیوٹر تھے۔

6۔وچن راگھویندرا:یونائٹیڈ ہائی اسکول کا طالب علم ہے جوہاسن ضلع کا ٹاپر بناہے اور صرف ایک مارک کی وجہ سے یہ بھی اسٹیٹ ٹاپر بننے سے رہ گیاہے۔ وچن کا کہنا ہے کہ: "میں نے میری ماں کی طرف سے مقرر کیے گئے ٹائم ٹیبل کے مطابق پوری محنت سے پڑھائی کی اور اسکول کی طرف سے جو ایکسٹرا کوچنگ کی جارہی تھی، ان کلاسس میں پوری دلچسپی کے ساتھ حاضر رہا۔"اور اس طرح کامیابی نے اس کے قدم چومے۔

bengaluru_sslc_st_21.jpg

 


Share: