ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کمارا سوامی نے بھی وسط مدتی انتخابات کا اشارہ دیا

کمارا سوامی نے بھی وسط مدتی انتخابات کا اشارہ دیا

Fri, 28 Apr 2017 01:57:04    S.O. News Service

بنگلورو۔27؍اپریل(ایس او  نیوز) سابق وزیر اعلیٰ اور ریاستی جنتادل(ایس) صدر ایچ ڈی کمار سوامی نے ریاستی اسمبلی کیلئے قبل از وقت انتخابات کی پیشین گوئی کی ہے ، حالانکہ کل وزیر اعلیٰ سدرامیا نے خود واضح کیا کہ اسمبلی انتخابات قبل ا ز وقت نہیں ہوں گے اور حکومت اپنی میعاد مکمل کرلے گی۔ اس کے ایک ہی دن بعد کما رسوامی نے کہاکہ اسمبلی کیلئے قبل از وقت انتخابات کروانا سدرامیا کیلئے ناگزیر ہوچکا ہے۔ کمار سوامی نے کہاکہ جنتادل (ایس) تمام 224اسمبلی حلقوں کیلئے اپنے امیدوار کھڑا کرے گی اور کسی پارٹی کے ساتھ کوئی مفاہمت نہیں کرے گی۔خاص طور پر کانگریس کے ساتھ جنتادل (ایس) اتحاد کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کانگریس بھی اگر اتحاد کی پہل کرے تو جنتادل (ایس) کی طرف سے اسے قطعاً قبول نہیں کیا جائے گا۔حالیہ ننجنگڈھ اور گنڈل پیٹ اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات کے نتیجہ کو اگلے اسمبلی انتخابات کا نقیب قرار دیتے ہوئے کمار سوامی نے کہاکہ اس کیلئے جنتادل (ایس) شمالی کرناٹک میں بنیادی سطحوں پر اپنے آپ کو مضبوط کرے گی اور یہ کوشش کرے گی کہ زیادہ سے زیادہ نشستوں پر کامیابی حاصل کرے۔ انہوں نے کہاکہ شمالی کرناٹک کے مختلف علاقوں میں وہ خود قیام کرکے پارٹی کو مضبوط کرنے کی جدوجہد کریں گے۔آنے والے دنوں میں ضلع اور تعلقہ سطح پر کارکنوں کی میٹنگ کی جائے گی اور جنتادل (ایس) کو مضبوط بنایا جائے گا۔ باغی جنتادل(ایس )اراکین اسمبلی کی پارٹی میں واپسی کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کمار سوامی نے کہاکہ وہ کانگریس جائیں یا ڈونالڈ ٹرمپ کی پارٹی میں جائیں جنتادل (ایس )کو ان سے کچھ سروکار نہیں ہے۔ ایک سیاسی پارٹی کسی بھی منتخب نمائندہ کیلئے ماں کی مانند ہوتی ہے، جو لوگ ماں کے ساتھ دغا کرکے جارہے ہیں وہ کہیں بھی خوش نہیں رہ سکتے۔ انہوں نے کہاکہ چونکہ یہ انتخابی سال ہے اسی لئے ریاست میں پارٹی بدلی کا سلسلہ چل پڑا ہے، بہت جلد سینئر کانگریس لیڈر ایچ وشواناتھ کی جنتادل (ایس) میں شمولیت کا اشارہ دیتے ہوئے کمار سوامی نے کہاکہ اس سے قدیم میسور میں پارٹی بہت مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ کسی بھی سیاست دان کو سیاست میں برقرار رہنا ہے تو کسی سیاسی جماعت سے وابستہ ہونا ضروری ہے۔ اسی لئے انہیں توقع ہے کہ وشواناتھ جلد ہی فیصلہ لیں گے۔ انہوں نے کہاکہ اس سے پہلے حالانکہ وشواناتھ نے جنتادل (ایس) کو باپ بیٹوں کی پارٹی قرار دیا، لیکن وزیر اعلیٰ سدرامیا نے جنتادل (ایس) کوجس قدر برا بھلا کہا ہے شاید ہی کسی اور لیڈر نے اتنا کہا ہوگا، جبکہ جنتادل (ایس) میں رہتے ہوئے سدرامیا نے کانگریس کی جتنی برائی کی شاید ہی کسی اور جے ڈی ایس لیڈر نے کی ہوگی۔ بدلے ہوئے سیاسی حالات کے نتیجہ میں قائدین کو اپنا فیصلہ بھی بدلنا پڑتا ہے۔سدرامیا مجبوراً اسی کانگریس پارٹی میں گئے جسے وہ براکہتے تھے اور اسی پارٹی نے انہیں وزیر اعلیٰ بنایا۔ بعض مراحل میں ایسی مصالحت کرنی پڑتی ہے۔ اس موقع پر سابق وزیر بسوراج ہوراٹی ، رکن اسمبلی کونا ریڈی اور دیگر لیڈران موجود تھے۔
 


Share: