نئی دہلی، 14؍اپریل(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )صارفین امور کے مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان نے ہوٹلوں اور ریستورانوں میں کھانے کی بربادی کو روکنے کے تناظرمیں کہا کہ حکومت اس کے لیے کوئی قانون لانا نہیں چاہتی ہے۔پاسوان نے کہا کہ حکومت لوگوں کو اس تناظر میں رضاکارانہ طور پر اقدامات کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کرے گی۔اس ہفتے کے شروع میں پاسوان نے کہا تھا کہ حکومت ہوٹلوں اور ریسٹورنٹ سے کہے گی کہ فراہم کئے جانے والے کھانوں کی مقدار کے بارے میں معلومات دی جائے ،تاکہ صارفین مناسب مقدار میں اس کے لیے اپنا آرڈر دے سکیں۔پاسوان نے بتایا کہ ہم اس کے لیے کوئی اصول بنانا نہیں چاہتے ،یا کوئی مشاورت ،نہ ہی کوئی نیا قانون بنانا چاہتے ہیں، ہم ہوٹلوں اور ریسٹورنٹ سے امید کرتے ہیں کہ وہ کھانے کی چیزوں کی بربادی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے رضاکارانہ طورپر قدم اٹھائے۔انہوں نے کہا کہ کھانے کی چیزوں کی بربادی کا مسئلہ ڈھابوں اور باہر کھانے کی چیزیں بیچنے والوں میں نہیں ہے، بلکہ یہ زیادہ تر ملک کے فائیواسٹار ہوٹلوں اور ریسٹورنٹ میں ہے۔ہوٹلوں اور ریسٹورنٹ تنظیموں کے ساتھ میٹنگ کے بعد پاسوان نے کہا کہ اس معاملے پر آج ہوٹل اور ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن کے لوگوں نے کھانے کی چیزوں کی بربادی کو روکنے کے لیے رضاکارانہ طورپر اقدامات کرنے کے لیے رضامند ی کا اظہار کیا۔میٹنگ میں انڈین ہوٹل یونین، شمالی ہندوستان ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ یونین،انڈین ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ یونین فیڈریشن کے نمائندے موجود تھے۔پاسوان نے کہاکہ انہوں نے اس مسئلے پر اپنے عملے کوٹریننگ دینے کے بارے میں اتفاق کیا۔ملازمین کوصارفین سے بات کرکے انہیں فراہم کئے جانے والے کھانوں کی مقدار کے بارے میں مطلع کرنے کے تناظر میں ٹریننگ دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ان کی ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ کچھ ہوٹلوں اور ریسٹورنٹوں نے پہلے ہی صارفین کے مفاد میں ‘آدھا پلیٹ ‘ کے تصور کو لاگو کیا ہے جبکہ کچھ نے صارفین کے طرف سے کھانے کی بربادی کی وجہ سے تمام بھوکے لوگوں کو کھانا کھلائے جا سکنے کے بارے میں ایک نوٹس لگانے جیسے اچھا کاموں کو اپنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگلی میٹنگ میں تبادلہ خیال کرنے کے لیے ان یونینوں سے مزید تجاویز مانگی گئی ہیں ،حالانکہ میٹنگ کی تاریخ ابھی طے نہیں ہے۔