ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مینگلورو میں منعقدہ کوسٹل کرناٹکا ٹورزم کے اہم اجلاس میں بلیو فلیگ بیچز کے طور پر 11علاقوں کی نشاندہی؛ وزیر اعلیٰ اور نائب وزیراعلیٰ کی شرکت

مینگلورو میں منعقدہ کوسٹل کرناٹکا ٹورزم کے اہم اجلاس میں بلیو فلیگ بیچز کے طور پر 11علاقوں کی نشاندہی؛ وزیر اعلیٰ اور نائب وزیراعلیٰ کی شرکت

Sun, 11 Jan 2026 12:46:28    S O News
مینگلورو میں منعقدہ کوسٹل کرناٹکا ٹورزم کے اہم اجلاس میں بلیو فلیگ بیچز کے طور پر 11علاقوں کی نشاندہی؛ وزیر اعلیٰ اور نائب وزیراعلیٰ کی شرکت

مینگلورو 11 / جنوری  (ایس او نیوز) ساحلی کرناٹکا میں سیاحتی صنعت کو فروغ دینے کے موضوع پر شہر کے اتّاور میں واقع ایک نجی ہوٹل میں اہم  کانفرنس کا  انعقاد کیا گیا جس کا افتتاح کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے ہاتھوں ہوا تو اختتامی اجلاس میں وزیر اعلیٰ سدرامیا نے شرکت کرتے ہوئے  اس بات کا یقین دلایا کہ  ساحلی کرناٹکا میں  سیاحتی صنعت کو فروغ دینے کے لئے ریاست کی کانگریس  حکومت سرمایہ کاروں کو ہر طرح کا تعاون دینے کے لئے تیار ہے۔ 

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے  محکمۂ سیاحت کرناٹک کے سکریٹری   ڈاکٹر تھریلوک چندر کے وی نے   ریاست میں بلیو فلیگ بیچ کے طور پر ترقی دینے کے لیے 11 ممکنہ ساحلوں کی نشاندہی کی ۔انہوں نے بتایا کہ بلیو فلیگ کے لیے منتخب کیے گئے ممکنہ ساحلوں میں دکشن کنڑ اکے سومیشور، اُلّال اور سسی ہتلو؛ اُڈپی ضلع کے آسارے، کوڈی کنیان، پڈوکیرے، کوڈی کنداپور اور شیرور؛ جبکہ اترا کنڑ اکے بیئلور، اپسرکونڈا اور رویندر ناتھ ٹیگور بیچ شامل ہیں۔

 تھریلوک چندر کے مطابق، ان ساحلوں کو بلیو فلیگ معیار کے مطابق ترقی دینے پر تقریباً 142.06 کروڑ روپے لاگت آنے کا تخمینہ ہے۔ اس ترقیاتی منصوبے میں عوامی آگاہی و تعلیمی پروگرام، معلوماتی سائن بورڈز کی تنصیب، ایڈونچر اور واٹر اسپورٹس کا آغاز، بیچ فیسٹیولز اور تقریبات کا انعقاد، ساحلوں کی صفائی،کچرے کی جمع آوری و نکاسی، پانی کے معیار کی جانچ اور عوامی سہولتوں کی بہتر دیکھ بھال شامل ہوگی۔

mangalore-summit-2

سیاحوں کی آمد میں اضافہ:سکریٹری نے بتایا کہ ساحلی کرناٹک میں گھریلو سیاحوں کی تعداد 2023 میں 28 کروڑ سے بڑھ کر 2024 میں 30 کروڑ ہو گئی، جبکہ غیر ملکی سیاحوں کی آمد اسی عرصے میں 4.09 لاکھ سے بڑھ کر 4.85 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ساحلی کرناٹک سیاحوں کی بڑی تعداد کو اپنی جانب راغب کر رہا ہے، تاہم اب بھی اسے ایک کم ترقی یافتہ خطہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ یہاں سیاحت اور مہمان نوازی کے شعبے میں بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرناٹک میں سیاحوں کی مجموعی آمد کا تقریباً 21 سے 38 فیصد حصہ ساحلی اضلاع سے تعلق رکھتا ہے۔

دریائی کروز سیاحت:کے وی تریلوک چندر نے بتایا کہ ریاست میں دریائی کروز سیاحت کو فروغ دینے کے لیے پانچ قومی آبی گزرگاہوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان میں کالی ندی (قومی آبی راستہ نمبر 52، 53 کلومیٹر)، شراوتی ندی (نمبر 90، 29 کلومیٹر)، گروپورا ندی (نمبر 43، 10 کلومیٹر)، نیتراؤتی ندی (نمبر 74، 30 کلومیٹر) اور کبنی ندی (نمبر 51، 23 کلومیٹر) شامل ہیں۔

بیچ شیک پالیسی: انہوں نے کہا کہ مجوزہ کرناٹک بیچ شیک پالیسی کا مقصد ریاست کے ساحلی علاقوں میں ماحول دوست، پائیدار اور ذمہ دار سیاحت کو فروغ دینا ہے، جس میں مقامی برادری کی شمولیت، ماحول کے تحفظ اور سیاحوں کو معیاری سہولیات فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

mangalore-summit-1

ڈی کے شیوکمار کے ہاتھوں اجلاس کا افتتاح: اس سے قبل اجلاس کا  افتتاح کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ اس راہ میں درپیش رکاوٹوں کو قانون کے ذریعے دور کیا جائے گا ۔ جس کے لئے ایک پالیسی بنانا ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ تینوں ساحلی اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں، سینئر افسروں، عوامی نمائندوں اور سیاحتی صنعت کے حصہ داروں کے ساتھ مل کراس ضمن میں ایک ایکشن پلان بنانے کے لئے ہدایت جاری کی گئی ہے ۔
    
شیوکمار نے کہا کہ ساحلی علاقہ خوبصورتی، تعلیم اور جائداد کے ساتھ سیاحوں کے لئے ایک جنت ہے ۔ یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ ان سب کے باوجود یہ علاقہ کیوں پیچھے رہ گیا ہے ۔ کوڈاگو ضلع سمیت ریاست کے 300 کلو میٹر ساحل کی تاریخ اگر دیکھیں تو یہاں کے بزرگوں نے جائیداد کے ساتھ ملک کو کئی بینک بھی دئے ہیں ۔ یہ علاقہ تعلیم کا گڑھ ہے ۔ میڈیکل، انجینئرنگ اور پی یو کالجوں کے ذریعے انسانی وسائل فراہم کرنے والا علاقہ ہے ۔ ریاست کے کسی بھی دوسرے ضلع میں ایسا انتظام نہیں ہے ۔ اس کے باوجود یہاں کے باشندے روزگار کے لئے بیرونی ممالک جاتے ہیں یا دوسری ریاستوں  اور اضلاع میں جا  کر ملازمت کرتے ہیں۔
    
نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہاں کے قدرتی حسن اور ساحلوں کے سامنے گوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ پھر بھی ہم کہیں پھنس کر رہ گئے ہیں ۔ اس کا تدارک کرتے ہوئے سیاحتی صنعت میں سرمایہ کاری کی ترغیب دلانے کے لئے ساحلی علاقے کے لئے الگ سے سیاحتی پالیسی وضع کرنا ضروری ہے ۔انہوں نے  کہا کہ یہ  پہلے مرحلے کی کانفرنس ہے۔

dk-shivkumar-mangalore

اسمبلی اسپیکر یو ٹی قادر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کرناٹکا میں سیاحتی صنعت کو فروغ دینے کے لئے ساحلی علاقے بہت اہمیت رکھتے ہیں۔  سیاحتی صنعت کو بھی دستکاری کے درجے میں رکھنا چاہیے ۔ جس طرح دستکاری کے لئے کے آئی ای ڈی بی کے ذریعے تحویل اراضی  کرتے ہوئے بنیادی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں اسی طرح سیاحتی صنعت کے لئے کیا جائے تو اس میں سرمایہ کاری کے لئے ترغیب ملے گی ۔ اس سمت میں محکمہ ٹورزم اور محکمہ دستکاری والوں کو باہمی جائزہ لے کر کوئی فیصلہ کرنا چاہیے ۔
    
اس موقع پر  اُترکنڑا کے  رکن پارلیمان وشویشور ہیگڑے کاگیری نے کہا کہ سیاحتی صنعت کے ضمن میں منگلورو، اڈپی میں خاصی ترقی ہوئی ہے ۔ اب اُتر کنڑا میں بھی زیادہ سرمایہ کاری کی ترغیب دینا چاہیے ۔ ہمارے ضلع میں بھی سمندر، ندیاں، آبشار جیسے بھرپور مواقع پائے جاتے ہیں ۔ مجھے امید ہے کہ ہمارے ضلع  کے لئے بھی  قدرتی ماحول سے مطابقت والے روزگار کے منصوبے بنائے جائیں گے ۔

اختتامی تقریب میں وزیراعلیٰ کا خطاب؛ پروگرام کی اختتامی تقریب میں شرکت کرتے ہوئے ریاست کے وزیراعلیٰ سدرامیا نے  کہا کہ ہماری حکومت اپنے وعدے پورے کرنے والی حکومت ہے ۔ ہم جو کچھ کہتے ہیں وہ کردیتے ہیں ۔  آگے کہا کہ  ساحلی علاقے میں سیاحتی صنعت میں سرمایہ کاری کے لئے جو لوگ آگے بڑھیں گے ہماری حکومت کی طرف سے انہیں بھرپور تعاون دیا جائے گا اور حوصلہ افزائی کی جائے گی ۔ ہم سیاحتی صنعت کے لئے  ہر قسم کا تعاون اور حوصلہ افزائی کر رہے ہیں ۔ آئندہ بھی کریں گے ۔سدرمیا نے کہا کہ  کئی لوگ اپنا سرمایہ لگانے کے لئے آگے آئے ہیں ۔ حکومت ان کی ستائش کرتی ہے ۔ 
   
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کرناٹکا میں اور خاص کرکے ساحلی علاقوں میں سیاحتی صنعت کی ترقی کے لئے بھرپور مواقع دستیاب ہیں ۔ اس وقت ریاست میں پانچ سالہ ٹورازم پالیسی 2024-29  وضع جاری ہے ۔ ساحلی اضلاع میں سیاحت کے فروغ کے سلسلے میں اس سے قبل کسی بھی حکومت نے دھیان نہیں دیا ۔ اب نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیو کمار اور سیاحتی صنعت کے وزیر ایچ کے پاٹل نے اس ضمن میں توجہ دی ہے ۔ سیاحت کے فروغ کے لئے امن و امان کا ماحول ضروری ہوتا ہے ۔ کسی بھی قسم کی دشمنی اور عداوت کو بڑھاوا نہیں دینا چاہیے ۔ تمام مذاہب امن و شانتی کا پیغام دیتے ہیں ۔ جیسا کہ کوئمپو نے کہا تھا، اس علاقے کو امن اور شانتی کا باغ ہونا چاہیے ۔ 

اس موقع پر دکشن کنڑا ضلع انچارج وزیر دنیش گنڈو راو، اڈپی ضلع انچارج وزیر لکشمی ہیبالکر، اُترکنڑا ضلع انچارج  وزیر منکال وئیدیا،    مینگلور رکن پارلیمان کیپٹن برجیش چوٹا، کوٹا سرینواس پجاری، رکن اسمبلی دیویاس کامت سریش کمار، راجیش نائک، یشپال سوورنا، سریش گفورمے، کشور کمار، کرن کمار، ستیش سئیل، ایوان ڈیسوزا، راجے گوڈا  اور  وزیر اعلیٰ کے سیاسی سیکریٹری نصیر احمد کے علاوہ مختلف کارپویشنوں اور بورڈس کے صدور موجود تھے ۔ 

mangalore-summit-4

Share: