ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / اسٹریلیا: سڈنی کے بونڈی بیچ کے قریب یہودی تہوار میں فائرنگ؛ 12 افراد ہلاک، متعدد زخمی

اسٹریلیا: سڈنی کے بونڈی بیچ کے قریب یہودی تہوار میں فائرنگ؛ 12 افراد ہلاک، متعدد زخمی

Sun, 14 Dec 2025 21:50:33    Reuters/AFP
اسٹریلیا: سڈنی کے بونڈی بیچ کے قریب یہودی تہوار میں فائرنگ؛ 12 افراد ہلاک، متعدد زخمی

سڈنی 14/ڈسمبر(ایس او نیوز/رائٹرز): اتوار کو آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے مشہور بونڈی بیچ پر یہودی مذہبی تہوار کے دوران مسلح افراد کی فائرنگ سے کم از کم 12 افراد ہلاک اور تقریباً 30 زخمی ہوگئے۔ آسٹریلوی پولیس اور حکام نے اس واقعے کو دہشت گردانہ حملہ قرار دیا ہے۔

نیو ساؤتھ ویلز پولیس کمشنر مال لینن نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ایک مشتبہ حملہ آور ہلاک ہوگیا جبکہ دوسرا شدید زخمی حالت میں ہے۔ ان کے مطابق زخمی ہونے والوں میں دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔

کمشنر نے بتایا کہ پولیس اس بات کی بھی تفتیش کر رہی ہے کہ آیا فائرنگ میں تیسرا حملہ آور بھی ملوث تھا یا نہیں، جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کئی مشتبہ دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات کو ناکارہ بنانے میں مصروف ہے۔

آسٹریلیا کے اعلیٰ انٹیلی جنس عہدیدار مائیک برجس نے کہا کہ مشتبہ حملہ آوروں میں سے ایک سیکیورٹی اداروں کو پہلے سے معلوم تھا، تاہم اسے فوری خطرہ تصور نہیں کیا گیا تھا۔

اسرائیل کی آسٹریلیا پر تنقید

اتوار کی یہ فائرنگ اکتوبر 2023 میں غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے آغاز کے بعد آسٹریلیا میں عبادت گاہوں، عمارتوں اور گاڑیوں پر ہونے والے یہود مخالف حملوں کے سلسلے کا سب سے سنگین واقعہ ہے۔

آسٹریلیا دنیا کے محفوظ ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے اور یہاں اجتماعی فائرنگ کے واقعات شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں۔ اتوار کا یہ حملہ 1996 کے بعد ملک کا بدترین واقعہ قرار دیا جا رہا ہے، جب تسمانیہ میں ایک سیاحتی مقام پر فائرنگ سے 35 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

وزیراعظم انتھونی البانیزی نے قومی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا اور حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں ظاہر ہونے والی برائی “ناقابلِ فہم” ہے۔

انہوں نے کہا، “یہ ہنوکا کے پہلے دن یہودی آسٹریلوی شہریوں پر ایک سوچا سمجھا حملہ ہے، جو خوشی اور عقیدے کے جشن کا دن ہونا چاہیے تھا۔ اس تاریک لمحے میں ہماری پولیس اور سیکیورٹی ایجنسیاں اس گھناونے عمل سے جڑے تمام عناصر کا سراغ لگانے میں مصروف ہیں۔”

عینی شاہدین کے مطابق گرمیوں کی ایک شام کو ہونے والی فائرنگ تقریباً 10 منٹ تک جاری رہی، جس کے باعث سینکڑوں افراد ریت پر اور قریبی گلیوں و پارکوں کی جانب بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ صرف ہنوکا کی تقریب میں ہی تقریباً ایک ہزار افراد شریک تھے۔

بونڈی جنکشن کے رہائشی 38 سالہ مارکوس کاروالیو نے بتایا، “میں گھر جانے کی تیاری کر رہا تھا، بیگ پیک کر رہا تھا کہ اچانک گولیوں کی آوازیں سنائی دیں۔ ہم سب گھبرا گئے اور دوڑ پڑے، سب کچھ وہیں چھوڑ دیا۔ مجھے شاید 40 یا 50 فائر سنائی دیے ہوں گے۔”

اسرائیلی صدراسحاق ہرزوگ نے کہا کہ بونڈی بیچ پر ہنوکا کی پہلی شمع روشن کرنے کے لیے جمع ہونے والے یہودیوں پر “گھناؤنے دہشت گردوں” نے حملہ کیا۔

اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون ساعر نے واقعے پر شدید صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلوی حکومت کو “ہوش کے ناخن لینے چاہئیں”، کیونکہ متعدد انتباہات کے باوجود یہ حملہ ہوا۔

انہوں نے کہا، “یہ گزشتہ دو برسوں کے دوران آسٹریلیا کی سڑکوں پر پھیلنے والی یہود مخالف نفرت اور اشتعال انگیز نعروں کا نتیجہ ہے۔”

یہ دنیا کے مشہور ترین ساحلوں میں سے ایک ہے، جہاں عام طور پر مقامی افراد اور سیاحوں کا ہجوم رہتا ہے۔

آسٹریلین جیوشری کی ایگزیکٹو کونسل کے شریک چیف ایگزیکٹو الیکس ریوچن نے اسکائی نیوز کو بتایا، “اگر ہمیں اس طرح جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا ہے تو یہ ایسا پیمانہ ہے جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ یہ ایک ہولناک واقعہ ہے۔” انہوں نے بتایا کہ ان کے میڈیا ایڈوائزر بھی حملے میں زخمی ہوئے۔

حملہ آور کو قابو میں کرنے کا منظر

بونڈی کی رہائشی گریس میتھیو نے بتایا کہ انہوں نے لوگوں کو بھاگتے ہوئے دیکھا اور فائرنگ کی آوازیں سنیں۔
انہوں نے کہا، “ابتدا میں لگا کہ یہ ساحل پر ایک خوبصورت دن ہے، لوگ تفریح کر رہے ہیں۔ پھر اچانک لوگوں نے چیخنا شروع کیا کہ شوٹر ہے اور لوگ مارے جا رہے ہیں۔”

مسلم تنظیموں کی مذمت

آسٹریلین نیشنل امام کونسل، کونسل آف امامز این ایس ڈبلیو اور آسٹریلوی مسلم کمیونٹی نے ایک مشترکہ بیان میں حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا،
“تشدد اور جرائم کی ان کارروائیوں کی ہمارے معاشرے میں کوئی جگہ نہیں۔ ذمہ داروں کو مکمل طور پر قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔”

بیان میں کہا گیا، “ہمارے دل، خیالات اور دعائیں متاثرین، ان کے اہلِ خانہ اور ان تمام افراد کے ساتھ ہیں جو اس دل دہلا دینے والے حملے سے متاثر ہوئے۔”

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا گیا ہے کہ ساحل اور قریبی پارک میں لوگ فائرنگ اور پولیس سائرن کی آوازوں کے درمیان بھاگ رہے ہیں۔

ایک ویڈیو میں سیاہ قمیص میں ملبوس شخص کو بڑے ہتھیار سے فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا گیا، جسے سفید ٹی شرٹ پہنے ایک دوسرے شخص نے قابو میں لے کر اسلحہ چھین لیا۔ ایک اور ویڈیو میں ایک شخص کو پیدل پل سے فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

ایک اور ویڈیو میں دو افراد کو پولیس اہلکاروں نے پل پر زمین پر لٹایا ہوا دیکھا گیا، جہاں ایک شخص کو ہوش میں لانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ رائٹرز نے تصدیقی فوٹیج کے ذریعے ان ویڈیوز کی تصدیق کی۔

یہ حملہ تقریباً 11 برس قبل لنڈٹ کیفے میں ہونے والے واقعے کے بعد پیش آیا، جہاں ایک مسلح شخص نے 18 افراد کو یرغمال بنایا تھا۔ 16 گھنٹے کے محاصرے کے بعد دو یرغمالی اور حملہ آور ہلاک ہوگئے تھے۔

آسٹریلیا کی اپوزیشن لبرل پارٹی کی رہنما سوسن لی نے کہا، “آج رات آسٹریلیا سوگ میں ڈوبا ہوا ہے، نفرت پر مبنی تشدد نے ایک علامتی آسٹریلوی مقام، بونڈی، کے دل کو زخمی کر دیا ہے، جسے ہم سب جانتے اور پسند کرتے ہیں۔”


Share: