دھارواڑ، 22 جنوری (ایس او نیوز / ایجنسی)دھارواڑ میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے، جہاں پیرا میڈیکل کی تعلیم مکمل کر کے روزگار کی تلاش میں مصروف ایک نوجوان لڑکی کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ مقتولہ کی لاش شہر کے مضافاتی علاقے منسور روڈ کے قریب ایک سنسان مقام سے آج صبح برآمد ہوئی، جس سے پورے ضلع میں سنسنی پھیل گئی ہے۔
مقتولہ کی شناخت زکیہ مُلّا بنت یونس ملا (21) کے طور پر کی گئی ہے، جو گاندھی چوک، دھارواڑ کی رہائشی تھی۔ زکیہ پیرا میڈیکل کی تعلیم مکمل کر چکی تھی اور ملازمت کی تلاش میں تھی۔
تفصیلات کے مطابق، زکیہ منگل کی شام گھر والوں کو یہ کہہ کر نکلی تھی کہ وہ لیب جا رہی ہے، مگر رات گئے تک واپس نہ لوٹنے پر اہلِ خانہ نے اس کی تلاش شروع کی۔ پوری رات جستجو کے باوجود کوئی سراغ نہ مل سکا۔ آج صبح تلاش کے دوران اس کی لاش منسور روڈ کے قریب، وِنئے ڈیری کے آس پاس برآمد ہوئی۔ ابتدائی شواہد سے یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ زکیہ کو کسی اور مقام پر قتل کر کے لاش یہاں لا کر پھینکی گئی، تاکہ شواہد مٹائے جا سکیں۔
اطلاع ملتے ہی دھارواڑ دیہی پولیس اور ودیاگیری تھانےکی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور تفتیش شروع کر دی گئی۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے روانہ کر دیا گیا، جبکہ فارنسک ٹیم نے بھی جائے واردات کا معائنہ کیا۔
ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ گنجن آریہ نے بتایا کہ زکیہ منگل کی دوپہر کے بعد گھر سے نکلی تھی اور لاپتہ ہو گئی۔ بدھ کی صبح لاش ملنے کی اطلاع موصول ہونے کے بعد قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد موت کی اصل وجہ واضح ہو سکے گی، جبکہ مقتولہ کے موبائل فون کال ریکارڈز کی بنیاد پر تفتیش کو تیز کر دیا گیا ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقتولہ کے والدین اور رشتہ دار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے، جہاں ان کا رنج و غم دیدنی تھا۔ اہلِ خانہ نے قاتلوں کی فوری گرفتاری اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس اس پہلو سے بھی جانچ کر رہی ہے کہ آیا قتل کی وجہ کوئی ذاتی رنجش، دوستی کا معاملہ یا کوئی اور سبب تھا۔ واقعہ نے شہر میں خواتین کے تحفظ سے متعلق ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔