ویسٹ ورجینیا، 3 /اگست (ایس او نیوز / ایجنسی) ایک ہندوستانی نژاد خاندان کے چار بزرگ افراد، جو امریکہ میں سڑک کے سفر کے دوران پانچ دن سے لاپتہ تھے، اتوار کو مردہ حالت میں پائے گئے۔ مارشل کاؤنٹی شیرف آفس کے مطابق، یہ تمام بزرگ افراد، جن کی عمریں 80 برس سے زائد تھیں، ایک کار حادثے میں ہلاک ہو گئے۔
جاری کردہ بیان کے مطابق، ان کی گاڑی، ہلکے سبز رنگ کی ٹویوٹا کیمری، ایک کھڑی ڈھلوان پر واقع "بگ ویلنگ کریک روڈ" کے کنارے چکناچور حالت میں ملی۔ علاقہ اتنا دور افتادہ تھا کہ ریسکیو ٹیموں کو جائے حادثہ تک پہنچنے میں پانچ گھنٹے سے زائد کا وقت لگا۔ شیرف مائیک ڈوہرٹی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حادثے کی وجوہات کی تفتیش جاری ہے۔
چاروں افراد — ڈاکٹر کشور دیوان (89)، آشا دیوان (85)، شیلش دیوان (86) اور گیتا دیوان (84) — کو آخری بار 29 جولائی کو پینسلوانیا کے ایری شہر کی پیچ اسٹریٹ پر واقع برگر کنگ آؤٹ لیٹ پر دیکھا گیا تھا۔ ان کے کریڈٹ کارڈ سے بھی آخری لین دین اسی مقام پر درج ہواتھا۔
وہ مارشل کاؤنٹی میں واقع "پیلس آف گولڈ" جانے کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ پیلس آف گولڈ ایک مشہور مذہبی مقام ہے جو سوامی پربھو پاد، بانیِ اِسکون (International Society for Krishna Consciousness [ISKCON]) کے شاگردوں نے تعمیر کیا ہے۔
ان کی گاڑی پر نیو یارک کی نمبر پلیٹ (EKW2611) لگی تھی۔ انہوں نے 29 جولائی کی رات پیلس آف گولڈ میں قیام کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم WTRF.com کی رپورٹ کے مطابق، پولیس کا کہنا ہے کہ یہ گروپ وہاں کبھی نہیں پہنچا۔
29 جولائی کے بعد سے ان میں سے کسی نے بھی اپنے فون کا جواب نہیں دیا۔ سیل ٹاور ڈیٹا کے مطابق ان کے فونز کی آخری لوکیشن بدھ کی صبح 3 بجے ماؤنڈزویل علاقے میں ریکارڈ کی گئی تھی۔
گزشتہ چار دنوں میں تفتیشی اداروں نے ہیلی کاپٹروں اور اضافی ٹیموں کی مدد سے تلاش کی کارروائیاں جاری رکھیں۔
یاد رہے کہ جون میں بھی ایک 24 سالہ ہندوستانی لڑکی، جس کی شناخت سمرن کے طور پر ہوئی تھی، نیو جرسی میں طے شدہ شادی کے لیے پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد لاپتہ ہو گئی تھی۔ تحقیقاتی اداروں کا کہنا تھا کہ ممکن ہے وہ شادی کا ارادہ نہ رکھتی ہو اور امریکہ آنے کو ایک مفت سفر کے طور پر استعمال کیا ہو۔