بینگلورو، 9 / دسمبر (ایس او نیوز) ہندوستان میں کینسر کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ ایک طرف عالمی سطح پر ہندوستان چین اور امریکہ کے بعد تیسرے نمبر پر آ گیا ہے تو دوسری طرف ریاست کرناٹک ملکی سطح پر تیسرے نمبر پر ہے جہاں پچھلے دو مہینوں کے دوران کینسر کے 5,664 معاملے سامنے آئے ہیں ۔
پارلیمنٹ کے جاری سیشن میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق سال 2015 سے 2024 کے دوران پچھلے دس برسوں میں کرناٹک میں 8.36 لاکھ افراد کینسر کے مرض سے متاثر ہوئے جس کی وجہ سے اتر پردیش، مہاراشٹرا، بہار، مغربی بنگال، تملناڈو اور مدھیہ پردیش کے بعد ریاست کرناٹکا کا نمبر آتا ہے ۔
ملک میں اتر پردیش کینسر سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی جہاں اس دس سال کے عرصے میں 22.5 لاکھ مریض دیکھے گئے ۔ جبکہ دوسری طرف ریاستی حکومت کے محکمہ صحت کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 'گروہا آروگیہ اسکیم' کے تحت مختلف امراض کے لئے گزشتہ دو مہینوں میں کی گئی طبی جانچ کے دوران نومبر 2025 تک کینسر کے 5,664 معاملوں کی نشاندہی ہوئی ہے ۔ یہ کرناٹک میں اس مرض کی تیزی کے ساتھ پیش رفت کا واضح اشارہ ہے ۔
محکمہ صحت کے افسران کا کہنا ہے کہ اس مہم کے دوران پوری ریاست میں کینسر اور اس سے متعلقہ امراض کے 22 لاکھ افراد کی جانچ کی گئی ۔ اس دوران میں منھ کے کینسر کے 3,403، کینسر کا پستان 1,311، اور 950 بچہ دانی کے کینسر کے مشتبہ معاملے سامنے آئے جنہیں اگلی جانچ پڑتال اور علاج کے لئے متعلقہ اسپتالوں میں بھیج دیا گیا ہے ۔
محکمہ صحت کے افسران نے بتایا کہ کینسر کی علامات اور مرض کی موجودگی خواتین کے اندر زیادہ دیکھی گئی ہے ۔ کینسر کے 87,000 نئے معاملے جو سامنے آئے ہیں ان میں خواتین کی اکثریت ہے ۔
خیال رہے کہ 'گروہا آروگیہ اسکیم' ریاستی حکومت کی طرف سے شروع کی گئی ایسی اسکیم ہے جس کے تحت دیہی علاقوں پر زیادہ توجہ مرکوز کرتے ہوئے بشمول کینسر امرض قلب، ذیابیطس، گردے کے امراض، بلڈ پریشر جیسے 14 امراض کے لئے طبی جانچ کرنے اور متاثرہ افراد کے گھرں تک دوائیاں پہنچانے کی کارروائی انجام دی جاتی ہے ۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مرض کی جلد تشخیص ہونے پر علاج میں آسانی اور صحت یاب ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔
منگلورو انسٹی ٹیوٹ آف آنکولوجی میں ریڈی ایشن ڈپارٹمنٹ کے چیف ڈاکٹر سریش راو کے مطابق مسلسل پیٹ درد کی شکایت، یا پاخانہ میں خون کی موجودگی کی صورت میں کینسر کی ابتدائی علامات پائی جاتی ہیں، مگر لوگوں یں معلومات اور شعوری بیداری نہ ہونے کی وجہ سے مرض کی تشخیص میں تاخیر ہو جاتی ہے ۔ اگر ابتدائی مرحلے میں اس مرض کی تشخیص ہو تو کم خرچ اور کم سے کم طبی مداخلت کے ساتھ اس کا علاج ہو سکتا ہے ۔ جبکہ ان کا تجریہ یہ ہے کہ زیادہ تر مریض کینسر کے تیسرے یا چوتھے مرحلے میں علاج کے لئے رجوع ہوتے ہیں ۔ ڈاکٹر راو کا کہنا ہے کہ اکثر خوف اور ہچکچاہٹ کی وجہ سے اس مرض کے تعلق سے ڈاکٹروں سے رجوع کرنے میں تاخیر کرتے ہیں اور پھر یہ مسئلہ پیچیدہ ہو جاتا ہے ۔ اگر ابتدائی طور پر پہلے یا دوسرے مرحلے میں اس مرض کی تشخیص ہو جاتی ہے تو پھر 90 فی صد سے صد فی صد تک صحت یاب ہونے کے امکانات موجود ہوتے ہیں ۔