ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / بنگلور سے گوکرن جانے والی پرائیویٹ بس کی چتردرگہ میں کنٹینر سے بھیانک ٹکر؛ 9 زندہ جل کر ہلاک

بنگلور سے گوکرن جانے والی پرائیویٹ بس کی چتردرگہ میں کنٹینر سے بھیانک ٹکر؛ 9 زندہ جل کر ہلاک

Thu, 25 Dec 2025 09:57:44    S O News
بنگلور سے گوکرن جانے والی پرائیویٹ بس کی چتردرگہ میں کنٹینر سے بھیانک ٹکر؛ 9 زندہ جل کر ہلاک

چتردرگہ 25 دسمبر (ایس او نیوز):بنگلورسے گوکرن جانے والی ایک نجی سلیپر بس چتردرگہ ضلع کے ہریور تعلقہ میں قومی شاہراہ 48 پر ایک کنٹینر لاری سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں بس میں آگ بھڑک اٹھی اور 9 افراد زندہ جل کر ہلاک ہوگئے۔ یہ المناک حادثہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب تقریباً پاونے دو بجے پیش آیا، جب بیشتر مسافر گہری نیند میں تھے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق بس میں ڈرائیور اور کلینر سمیت جملہ 32 افراد سوار تھے۔ حادثے کے فوراً بعد اکثر مسافروں نے بس سے باہر چھلانگ لگا کراپنی جان بچانے کی کوشش کی۔ کئی مسافروں کو مقامی لوگوں نے ریسکیو کیا، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے، جنہیں قریبی اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ پتہ چلا ہے کہ زخمیوں میں بعض کی حالت نازک ہے۔

عینی شاہدین اور ابتدائی رپورٹ کے مطابق ایک تیز رفتار کنٹینر لاری، جو ہریور سے بنگلور کی جانب جا رہی تھی، ڈیوائیڈرکو عبور کرکے مخالف سمت میں پہنچ گئی اور بنگلور سے گوکرن جانے والی نجی سلیپر بس کو زور دار ٹکر ماردی۔ بتایا جا رہا ہے کہ تصادم کے نتیجے میں بس کا ڈیزل ٹینک پھٹ گیا، جس کے باعث بس سڑک کے بیچوں بیچ آگ کی لپیٹ میں آگئی اور چند ہی لمحوں میں مکمل طور پر جل گئی۔ ابتدائی طور پر کنٹینر ڈرائیور کی لاپروائی کو اس حادثے کی وجہ بتایا جا رہا ہے۔

bus-container-accident-1

حادثے میں کنٹینر ڈرائیور بھی موقع پر ہی ہلاک ہوگیا، جبکہ بس ڈرائیور محمد رفیق شدید زخمی ہوا ہے۔ کلینر محمد صادق معمولی چوٹوں کے ساتھ زندہ بچ نکلنے میں کامیاب رہا اور دونوں اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

بتایا جا رہا ہے کہ چونکہ بس اے سی کوچ نہیں تھی، اس لیے اکثر مسافر بروقت باہر نکلنے میں کامیاب رہے، جس کے باعث کئی جانیں بچ گئیں۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق بس میں سوار 25 مسافر کرسمس تہوار منانے کے لیے گوکرن جا رہے تھے، جبکہ دو مسافر شموگہ اور مزید دو کمٹہ جانے والے تھے۔ اطلاعات کے مطابق دو سے تین مسافر مرڈیشور کے رہائشی بھی تھے۔

تصادم کے فوری بعد بس میں تیزی سے آگ پھیل گئی۔ جو مسافر جاگ گئے تھے وہ بس سے باہر بھاگنے میں کامیاب رہے، تاہم جو مسافر نیند میں تھے وہ آگ کی لپیٹ میں آکر موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔

Watch Video report

پتہ چلا ہے کہ حادثے کے فوری بعد قومی شاہراہ کا ایک حصہ مکمل طور پر بلاک ہوگیا، جس کے نتیجے میں تقریباً دو گھنٹے تک جاری ریسکیو آپریشن کے دوران 20 کلو میٹر تک طویل ٹریفک جام رہا۔ آگ لگتے ہی فائر بریگیڈ اور ایمبولنس گاڑیاں فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچ گئیں، جبکہ آئی جی پی روی کانت گوڈا اور ایس پی رنجیت کمار سمیت پولیس ٹیم بھی اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچ گئی۔

دوسری بس پر سوار 42 بچے محفوظ:

جیسے ہی لاری غلط سائیڈ پر  پہنچ کرپرائیویٹ بس سے ٹکرائی،اس بس کے بالکل پیچھے آنے والی ایک دوسری بس حادثے کی زد میں آنے سے بال بال بچ گئی۔ پتہ چلا ہے کہ پیچھے سے آنے والی بس بینگلور سے ڈانڈیلی جارہی تھی جس پر 42 بچے سوار تھے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق بس ڈرائیور نے سامنے والی بس کے لاری سے ٹکر ہوتے دیکھتے ہی اپنی بس کو سڑک کنارے کی طرف لے گیا اور اس کوشش میں بس بے قابو ہوکر سڑک کے باہرچلی گئی، مگر اس کوشش میں تمام بچے بالکل محفوظ رہے۔

وزیر اعظم مودی کا اظہار افسوس اور مرنے والوں کے لواحقین کو دو لاکھ روپئے

حادثے میں نو لوگوں کی موت پر وزیراعظم نریندر مودی نے ایکس پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مرنے والوں کے لواحقین کےلئے دو دو لاکھ روپئے اور زخمیوں کو پچاس ہزار روپئے دینے کا اعلان کیا ہے۔

Click here for report in English


Share: