ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / راجیہ سبھا میں راگھو چڈھا سمیت ارکان کی نااہلی کا مطالبہ، چیئرمین کو دسویں شیڈول کے تحت درخواست پیش

راجیہ سبھا میں راگھو چڈھا سمیت ارکان کی نااہلی کا مطالبہ، چیئرمین کو دسویں شیڈول کے تحت درخواست پیش

Mon, 27 Apr 2026 11:27:35    S O News

نئی دہلی ، 27/ اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی)عام آدمی پارٹی نے راگھو چڈھا اوران کے ساتھ دل بدلی کرکے بی جےپی میں  شامل ہونےوالے ’آپ‘ کے دیگر ۶؍ اراکین کو نااہل قرار دینے کیلئے راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو باقاعدہ درخواست دے دی ہے۔ ’آپ ‘ کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے اتوار درخواست جمع کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں  راگھو چڈھا اور دیگر کی دل بدلی کو آئین کی روح کے منافی قراردیا۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ ان اراکین کا پارٹی چھوڑنا دل بدلی قانون کی واضح خلاف ورزی ہے۔ یاد رہے کہ پنجاب سے عام آدمی پارٹی کے کوٹہ سے راجیہ سبھا کیلئے منتخب ہونے والے راگھو چڈھا، اشوک مِتّل، سندیپ پاٹھک، ہربھجن سنگھ، راجندر گپتا، وکرم سہنی اور سواتی مالیوال نے جمعہ کو پارٹی سے استعفیٰ دیکر بی جے پی میں ضم ہونے کا اعلان کیاتھا۔ راگھو چڈھا نے دل بدلی کا جواز یہ پیش کیا کہ اروند کیجریوال کی قیادت والی پارٹی اپنے بنیادی اصولوں اور اقدار سے ہٹ گئی ہے۔

راگھو چڈھا کا موقف ہے کہ اگر کسی پارٹی کے دو تہائی اراکین کسی دوسری جماعت میں شامل ہو جائیں تو انہیں نااہلی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا میں ۱۰؍ اراکین ہیں، اس لئے ۷؍ اراکین کی یہ تعداد مطلوبہ دو تہائی حد سے زیادہ ہے۔ تاہم سنجے سنگھ نے اس کی تردید کرتے ہوئے اتوار کو کہا کہ پارٹی نے آئینی ماہرین، جن میں سینئر وکیل کپل سبل اور لوک سبھا کے سابق سیکریٹری جنرل شامل ہیں، سےمشورہ کیا ہے اور ان کے مطابق یہ اراکین دل بدلی قانون کے تحت نااہلی کے مستحق ہیں۔  پریس کانفرنس میں سنجے سنگھ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے کئی فیصلوں میں   جن میں اتراکھنڈ اور اروناچل پردیش سے متعلق مقدمات شامل ہیں،  واضح کیا گیاہے کہ سیاسی وفاداری کی  اس نوعیت کی  تبدیلی نااہلی کا باعث بن سکتی ہے۔انہوں نے آئین کے دسویں شیڈول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ’’یہ واضح طور پر اس طرح کی سیاسی وفاداری کی تبدیلی کی اجازت نہیں دیتا۔‘‘سنجے سنگھ اعلان کیا کہ ’’عام آدمی پارٹی ضرورت پڑنے پر عدالت سے رجوع کرے گی۔ یہ ارکان پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے لیکن بعد میں اسے چھوڑ کر دوسری جماعت میں شامل ہو گئے۔ یہ پنجاب کے عوام اور آئین ِ ہند دونوں سے غداری ہے۔‘‘

لوک سبھا  کے سابق سیکریٹری جنرل پی ڈی ٹی آچاری نے بھی عام آدمی پارٹی کے موقف کی تائید کی ہے۔  ان کے مطابق عام آدمی پارٹی کے اراکین  صرف راجیہ سبھا ہی میں نہیں  ہیں بلکہ مختلف قانون ساز اداروں میں موجود ہیں۔ انہوں نے آئین کے دسویں شیڈول کے پیراگراف۴؍  کا حوالہ دیا جو ۱۹۸۵ء کی ۵۲؍ ویں آئینی ترمیمی ایکٹ کے ذریعے شامل کیا گیا تھا اور۲۰۰۳ء کے ۹۱؍ ویں آئینی ترمیمی ایکٹ کے ذریعے مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔اس  میں کہا گیا ہے کہ ’’ ایوان کا کوئی رکن نااہل قرار نہیں دیا جائے گا… اگر اس کی اصل سیاسی جماعت کسی دوسری سیاسی جماعت میں ضم ہو جائے اور وہ یہ دعویٰ کرے کہ وہ اور اس کی اصل جماعت کے دیگر ارکان اس دوسری جماعت کے رکن بن گئے ہیں یاا س انضمام کے نتیجے میں بننے والی نئی جماعت کے رکن ہیں۔‘‘ 


Share: