ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / غزہ جنگ بندی کے بعد اسرائیل۔حماس قیدیوں کا تبادلہ؛ عالمی رہنماؤں نے کیا امن معاہدے پردستخط؛ درجنوں فلسطینی رہائی کے بعد جلاوطنی پرمجبور

غزہ جنگ بندی کے بعد اسرائیل۔حماس قیدیوں کا تبادلہ؛ عالمی رہنماؤں نے کیا امن معاہدے پردستخط؛ درجنوں فلسطینی رہائی کے بعد جلاوطنی پرمجبور

Tue, 14 Oct 2025 00:52:31    S O News
غزہ جنگ بندی کے بعد اسرائیل۔حماس قیدیوں کا تبادلہ؛ عالمی رہنماؤں نے کیا امن معاہدے پردستخط؛ درجنوں فلسطینی رہائی کے بعد جلاوطنی پرمجبور

قاہرہ / یروشلم / غزہ 13/اکتوبر (ایس او نیوز): اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی معاہدے کے بعد عالمی رہنماؤں نے مصر کے سیاحتی شہر شرم الشیخ میں منعقدہ غزہ امن سربراہی اجلاس میں ایک تاریخی دستاویز پر دستخط کیے ہیں، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے "غزہ جنگ بندی کے نفاذ کے لیے ضابطے اور قواعد" قرار دیا ہے۔

معروف انگریزی میڈیا الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے مشترکہ طور پر اس معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت اسرائیل اور حماس کے درمیان فائر بندی کے نفاذ اور غزہ کے انتظام سے متعلق رہنما اصول طے کیے گئے ہیں۔

معاہدے کے تحت اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا عمل مکمل ہوا، جس میں اسرائیلی جیلوں سے قریب دو ہزار فلسطینیوں کو رہا کیا گیا جبکہ غزہ میں قید 20 اسرائیلی شہریوں کو آزاد کیا گیا۔

اقوام متحدہ کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اب تک کم از کم 67,869 فلسطینی شہید اور 1,70,105 زخمی ہو چکے ہیں۔ اکتوبر 7، 2023 کو اسرائیل میں ہونے والے حماس کے حملوں میں 1,139 اسرائیلی ہلاک اور تقریباً 200 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔

غزہ میں حماس کی واپسی؛ سکیورٹی خلا پُر کرنے کی کوشش

جنگ بندی کے بعد سے حماس کے مسلح ارکان نے غزہ کی سڑکوں پر دوبارہ گشت شروع کر دیا ہے تاکہ سکیورٹی خلا پیدا نہ ہو۔ امریکی صدر ٹرمپ نے تصدیق کی کہ "ہم نے حماس کو محدود مدت کے لیے اجازت دی ہے کہ وہ غزہ میں نظم و نسق برقرار رکھے اور بدامنی روکنے کے اقدامات کرے۔"

حماس کے میڈیا دفتر کے سربراہ اسماعیل الثوابتے کے حوالہ سے الجزیرہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تنظیم عوامی تحفظ اور املاک کے تحفظ کے لیے ذمہ داریاں نبھائے گی اور کسی بھی بدامنی کو برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حماس اپنے اسلحے پر بات چیت کے لیے تیار نہیں اور یہ اسلحہ صرف اس وقت حوالے کیا جائے گا جب ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم ہو جائے گی۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کے مطابق، ایک غیر فوجی غزہ میں بین الاقوامی نگرانی کے تحت فلسطینی کمیٹی کو اقتدار سونپا جائے گا، جب کہ ایک عالمی امن فورس فلسطینی پولیس کی تربیت اور مدد فراہم کرے گی۔

ٹرمپ کی واپسی؛ امن مذاکرات کے بعد واشنگٹن روانگی

سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد امریکی صدر ٹرمپ مصر کے شہر شرم الشیخ سے واشنگٹن واپس روانہ ہو گئے۔ ان کا یہ مختصر دورہ اسرائیل اور مصر کے درمیان امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے تھا، جسے وہ "غزہ میں پائیدار امن کی جانب پہلا قدم" قرار دے رہے ہیں۔

رہائی کے باوجود جلاوطنی: 154 فلسطینی قیدیوں کو تیسرے ممالک بھیجنے کا فیصلہ

قیدیوں کے تبادلے کے اس معاہدے کے تحت جہاں فلسطینی خاندانوں نے اپنے عزیزوں کی رہائی پر خوشی کا اظہار کیا، وہیں کئی خاندان صدمے میں مبتلا ہو گئے جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کے پیاروں کو آزادی کے بعد فلسطین کے بجائے جلاوطنی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

اسرائیل نے پیر کے روز 154 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کے ساتھ ہی تیسرے ممالک میں جلاوطن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فلسطینی قیدیوں کے میڈیا دفتر کے مطابق یہ اقدام قیدیوں کے بنیادی شہری حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق، یہ افراد اُن 250 قیدیوں میں شامل ہیں جنہیں اسرائیل نے مختلف جیلوں سے رہا کیا ہے، جن میں تقریباً 1,700 فلسطینی وہ بھی شامل ہیں جو غزہ پر دو سالہ جنگ کے دوران لاپتہ یا گرفتار کیے گئے تھے۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ ان قیدیوں کو کن ممالک میں بھیجا جائے گا، لیکن جنوری میں ہونے والے ایک سابقہ تبادلے میں درجنوں فلسطینیوں کو تیونس، الجزائر اور ترکیہ میں جلاوطن کیا گیا تھا۔

ماہرین اور اہلِ خانہ کا ردعمل: "یہ غیر انسانی اور غیر قانونی اقدام ہے"

دوحہ انسٹی ٹیوٹ کے پبلک پالیسی کے ماہر ڈاکٹر تامر قرموط نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا: "یہ جلاوطنی غیر قانونی ہے، کیونکہ یہ فلسطینی اپنے ہی ملک کے شہری ہیں۔ ان کی رہائی محض ایک قید سے نکل کر دوسری بڑی قید میں جانا ہے، جہاں وہ اپنے معاشرے سے کٹ جائیں گے۔ یہ ایک غیر انسانی عمل ہے۔"

رام اللہ میں الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے فلسطینی قیدی محمد عمران کے بھائی رائد عمران نے کہا کہ ان کے بھائی کو گھر واپسی کی اطلاع دی گئی تھی، مگر آج انہیں بتایا گیا کہ انہیں جلاوطن کیا جا رہا ہے۔ "یہ ہمارے لیے ایک جھٹکا ہے، لیکن کم از کم وہ زندہ ہیں۔ امید ہے کہ کسی نہ کسی طرح ان سے ملاقات ممکن ہو۔"

الجزیرہ کی نامہ نگار ندا ابراہیم کے مطابق، یہ اقدام کئی فلسطینی خاندانوں کو اپنے پیاروں سے ہمیشہ کے لیے جدا کر سکتا ہے، کیونکہ اسرائیل کی سرحدی پابندیوں کی وجہ سے ان کے لیے بیرونِ ملک سفر تقریباً ناممکن ہے۔


Share: