
بنگلورو ، 12/جنوری (ایس او نیوز /ایجنسی)کرناٹک کی دینی، علمی اور سماجی تاریخ کا ایک درخشاں باب آج بند ہو گیا۔ امیرِ شریعتِ کرناٹک، محدثِ جلیل، استاذالاساتذہ اور دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور کے مہتمم و شیخ الحدیث حضرت مولانا صغیر احمد صاحب رشادیؒ آج اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے ۔إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔ ان کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی ریاست بھر میں غم، افسوس اور سوگ کی کیفیت طاری ہو گئی، جبکہ ملک کے مختلف حصوں سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔
حضرت مولانا صغیر احمد رشادیؒ کا شمار ان اکابر علما میں ہوتا تھا جنہوں نے علمِ حدیث، دینی قیادت اور ادارہ سازی کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ ان کی ذات علم و عمل، اعتدال و بصیرت اور تقویٰ و اخلاص کا حسین امتزاج تھی۔ ضدارالعلوم سبیل الرشاد ان کی قیادت میں محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ دینی فکر، اخلاقی تربیت اور امت کی رہنمائی کا مضبوط مرکز بن کر ابھرا۔ آج ملک کے گوشے گوشے میں خدمات انجام دینے والے ہزاروں علما، ائمہ اور مبلغین ان کے فیض یافتہ تلامذہ میں شامل ہیں۔
بحیثیت شیخ الحدیث حضرت کی تدریس میں گہرائی، استدلال اور اعتدال نمایاں تھا، جبکہ مہتمم کی حیثیت سے ان کی بصیرت، نظم و ضبط اور ادارہ جاتی سوچ نے دارالعلوم کو ملک کے معتبر دینی مراکز میں شامل کر دیا۔امیرِ شریعت کے منصب پر فائز رہتے ہوئے انہوں نے امت کے اجتماعی مسائل پر رہنمائی، اتحاد و اتفاق کے فروغ اور دینی تشخص کے تحفظ میں مؤثر کردار ادا کیا۔