ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / جی بی اے انتخابات کے لیے امیدواروں سے آن لائن درخواستیں طلب، ڈی کے شیوکمار کا اعلان، فیس کی تفصیلات بھی جاری

جی بی اے انتخابات کے لیے امیدواروں سے آن لائن درخواستیں طلب، ڈی کے شیوکمار کا اعلان، فیس کی تفصیلات بھی جاری

Mon, 15 Dec 2025 11:44:21    S O News

بنگلورو  ، 15/ دسمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)گریٹر بنگلورو اتھارٹی (جی بی اے) کے مجوزہ انتخابات کے سلسلے میں 369 وارڈز میں مقابلہ کرنے کے خواہشمند امیدواروں سے کل سے درخواستیں طلب کی جائیں گی۔ یہ بات کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ اور پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ڈی کے شیوکمار نے بتائی۔

اتوار کو نئی دہلی میں واقع کرناٹک بھون میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ اگرچہ ابھی تک وارڈز کی حتمی ریزرویشن کا اعلان نہیں ہوا ہے، تاہم یہ جاننے کے لیے کہ کن وارڈز میں کتنے افراد مقابلہ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، ابتدائی طور پر درخواستیں طلب کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں وزراء کے ساتھ مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ درخواستوں کے ساتھ جمع کی جانے والی رقم پارٹی کے بلڈنگ فنڈ کے لیے استعمال کی جائے گی۔ اس کے تحت عام زمرے کے امیدواروں سے 50 ہزار روپے جبکہ خواتین اور درج فہرست طبقات کے امیدواروں سے 25 ہزار روپے جمع کیے جائیں گے۔ درخواست کا عمل آن لائن ہوگا۔

ڈی کے شیوکمار نے واضح کیا کہ ووٹ کی چوری کے خلاف شروع کی گئی جدوجہد جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام کے تحفظ کے لیے ہر حلقے میں لیگل بینک قائم کیا جائے گا، جس میں پارٹی سے وابستہ وکلاء کو شامل کیا جائے گا تاکہ کارکنان کو قانونی رہنمائی فراہم کی جا سکے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جی سی چندر شیکھر کی جانب سے بی ایل اے شناختی کارڈ سے متعلق تیاری مکمل کر لی گئی ہے اور اس سلسلے میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی سے منظوری حاصل کی جائے گی۔

عوامی جوش و خروش پر بات کرتے ہوئے ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ حالیہ احتجاج میں عوام کی بھرپور شرکت 2028 اور 2029 کے انتخابات کے لیے نیک شگون ہے۔ ان کے مطابق کانگریس کی ضرورت ملک کے لیے ناگزیر بنتی جا رہی ہے اور کارکنان پارٹی کو مضبوط کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں، جس سے ان کا حوصلہ بلند ہوا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ کئی کارکنان نے اپنی جیب سے خرچ کرکے احتجاج میں شرکت کی۔ووٹروں کی فہرست سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ شہری علاقوں میں ووٹ کی چوری کے واقعات زیادہ ہیں اور مثال دیتے ہوئے کہا کہ آلند حلقہ میں دیہی علاقوں سے بھی بیرونِ ریاست موبائل نمبرز کے ذریعے ووٹروں کے نام حذف کرائے گئے ہیں۔

ہائی کمان کے رہنماؤں سے ملاقات کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ پارٹی کے سینئر قائدین انہیں دیکھتے ہی خیریت دریافت کرتے ہیں اور یہ ملاقاتیں خوشگوار اور غیر رسمی نوعیت کی ہوتی ہیں، کسی ذاتی یا خفیہ ایجنڈے پر مبنی نہیں۔ انہوں نے سونیا گاندھی سے ملاقات سے متعلق خبروں کو بھی مسترد کیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ انہیں کسی قسم کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے اور میڈیا غیر ضروری قیاس آرائیاں کر رہا ہے۔ آئندہ ملاقاتوں کے سوال پر انہوں نے بتایا کہ پیر کے روز دہلی پولیس کے نوٹس کا جواب دینا ہے، اس کے بعد دیگر ملاقاتوں کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔


Share: