ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / بلاری : ریڈّی گروپس کے درمیان جھڑپ - گولی لگنے سے 1 کانگریسی کارکن کی موت - 10 افراد کے خلاف درج ہوئی ایف آئی آر

بلاری : ریڈّی گروپس کے درمیان جھڑپ - گولی لگنے سے 1 کانگریسی کارکن کی موت - 10 افراد کے خلاف درج ہوئی ایف آئی آر

Sat, 03 Jan 2026 11:59:30    S O News

بلاری، 3/ جنوری (ایس او نیوز) والمیکی کی مورتی کی نقاب کشائی سے متعلقہ پروگرام کے بینرز آویزاں کرنے کے دوران رکن اسمبلی جناردھن ریڈی اور کانگریس ایم ایل اے بھرت ریڈی  کے حامی گروپوں کے درمیان شدید جھڑپ ہوگئی جس میں ایک کانگریسی کارکن راج شیکھر کی گولی لگنے سے موت واقع ہوگئی ۔ گالی جناردھن ریڈی اور شری رام ریڈی سمیت دس افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے ۔
    
اس تصادم کے ضمن میں سٹی ایم ایل اے نارا بھرت کے قریبی حامی چانال شیکھر کی شکایت کی بنیاد پر چار لوگوں کے خلاف درج  کیے گئے مقدے میں جناردھن ریڈی کو ملزم نمبر 1 بنایا گیا ہے ۔ چانال شیکھر نے اپنی شکایت میں بتایا ہے کہ شہر میں والمیکی مورتی کی نقاب کشائی کے بینر لگانے کے دوران جناردھن ریڈی نے اپنے علاقے میں بینرز لگانے سے منع کیا اور لگائے گئے بینرز پھاڑ ڈالے ۔ اس بارے میں سوال کرنے پر جناردھن ریڈی، سوم شیکھر ریڈی اور ان کے دیگر حامیوں نے ہمارے ساتھ گالی گلوچ کی اور اپنے حامیوں کے ساتھ ہمارے اوپر جان لیوا حملہ کیا ۔    
    
تحقیقات کا حکم :اس معاملے پر وزیر اعلیٰ سدا رامیا نے ودھان سودھا میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلاری حلقہ سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر اور موجودہ رکن اسمبلی کے گھر کے قریب ہوئی اس گروہی جھڑپ میں ایک کانگریسی کارکن کی موت واقع ہوئی ہے ۔ اس واردات کے تعلق سے تحقیقات کرتے ہوئے فوری طور پر رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔  اس کے علاوہ اس کی بھی تحقیق کرتے ہوئے رپورٹ  داخل کرنے حکم دیا گیا ہے کہ اس واردات میں استعمال ہونے والی بندوق کس کی ہے ۔ سمجھا جاتا ہے کہ ستیش ریڈی نامی شخص نے ہوا میں جو گولی چلائی تھی وہ کانگریسی کارکن راج شیکھر کو لگی ہوگی ۔  

ضمیر احمد خان کا رد عمل : بلاری ضلع انچارج وزیر بی زیڈ ضمیر احمد خان نے کہا کہ اس گروہی تصادم میں ایک شخص کی موت واقع ہونے کے تعلق سے تفتیش کی جائے گی ۔ قصور واروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔ اس واقعے کے بارے میں پولیس کی تحقیقات جاری ہے ۔ پتہ نہیں کہ ایک چھوٹا سا معاملہ اس قدر سنگین کیسے ہوگیا ۔ بی جے پی کے لیڈر اسے اپنے فائدے کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

اے ڈی جی پی کا بیان :لا اینڈ آرڈر شعبہ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ہتیندرا نے بلاری میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ بینر آویزاں کرنے کے مسئلے پر دو گروہوں کے درمیان تصادم ہوا ہے ۔ اس واقعے کے تعلق ایک سوو موٹو کیس سمیت چار الگ الگ معاملے درج کیے گئے ہیں ۔ ان میں سے تین کیس موصول ہونے والی شکایتوں پر درج کیے گئے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں طرف کے گن مین اور بندوقوں کو پولیس نے اپنی تحویل میں لیا ہے ۔

اے ڈی جی پی نے پولیس کی طرف سے ہوائی فائرنگ کی بات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صرف آنسو گیس کے گولے داغے گئے تھے ۔ اس واقعے کے ضمن میں پانچ نجی بندوقیں اور گولیاں ضبط کی گئی ہیں ۔ تحقیقات جاری ہیں ۔

ضلع ایس پی معطل : ریڈی گرپوں کے درمیان ہوئے تصادم کے پس منظر میں ریاستی حکومت نے بلاری کے ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ پوَن نیجور کو معطل کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں ۔ خیال رہے کہ یکم جنوری کو بلاری ایس پی کی حیثیت سے پوَن نیجور کا تقرر ہوا تھا اور اس کے تین گھنٹے بعد ہی ریڈی گروپس کے بیچ جھڑپ ہوئی تھی ۔ اس واقعے کے بعد ڈی پی اے آر کے انڈر سیکریٹری آر وی اشوک نے پون کو معطل کرنے کا حکم جاری کر دیا جس کا اطلاق فوی طور پر ہوگا ۔


Share: