بنگلورو یکم جنوری(ایس او نیوز): بنگلورو کے یلہنکا کے قریب واقع کوگِلو لے آؤٹ کی فقیر کالونی سے بے دخل کیے گئے 400 خاندانوں کو مکانات فراہم کیے جانے کے دعوؤں کو شہری ترقیات کے وزیر بھیرَتی سریش نے یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صرف 90 خاندان ہی بازآبادکاری اور مکانات کے اہل ہیں، اور انہیں ہی مکانات الاٹ کیے جائیں گے۔
جمعرات کو بنگلورو میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر بھیرَتی سریش نے بتایا کہ شہری ترقیات محکمہ اور سماجی بہبود محکمہ کے افسران نے موقع پر جا کر مشترکہ سروے کیا ہے، جس کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ صرف 90 خاندان مقامی اور حقیقی مستحقین کے زمرے میں آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شہر سے باہر سے آ کر آباد ہونے والے یا غیر اہل افراد کو مکانات فراہم نہیں کیے جاسکتے، بلکہ صرف وہی خاندان مکانات کے مستحق ہیں جو واقعی برسوں سے اس علاقے میں مقیم رہے ہیں اور سرکاری معیار پر پورا اترتے ہیں۔
وزیر نے واضح کیا کہ وزیر اعلیٰ سدارامیا کی قیادت والی کانگریس حکومت ذات، طبقہ یا برادری کی بنیاد پر فیصلے نہیں کر رہی ہے، بلکہ کوگِلو علاقے میں کئی برسوں سے مقیم تمام برادریوں سے تعلق رکھنے والے اہل خاندانوں کو ہی مکانات فراہم کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب بی جے پی نے خبردار کیا ہے کہ اگر مکانات کی الاٹمنٹ میں بے قاعدگیاں ہوئیں تو وہ 5 جنوری کو بنگلورو میں احتجاج کریں گے۔ یلہنکا سے بی جے پی کے رکنِ اسمبلی ایس آر وشوناتھ نے کہا کہ تعمیراتی کام نامکمل ہونے کے باعث ایک سال قبل ایک لاکھ روپے جمع کرانے والے کئی افراد کو تاحال مکانات فراہم نہیں کیے گئے ہیں۔
وشوناتھ نے مزید کہا کہ قواعد کے مطابق مکانات کے لیے اہل افراد کی سالانہ آمدنی زیادہ سے زیادہ تین لاکھ روپے ہونی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ راجیو گاندھی آواس یوجنا کے تحت فائدہ اٹھانے والوں کے لیے بنگلورو میں کم از کم پانچ سال کی رہائش اور محکمہ مال کے افسران کی جانب سے تصدیق شدہ رہائشی سرٹیفکیٹ ہونا لازمی ہے۔