ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / انتخابی تشدد کیس: ممتا بنرجی وکیل کے لباس میں کلکتہ ہائی کورٹ پہنچیں، خود کریں گی مقدمے کی پیروی

انتخابی تشدد کیس: ممتا بنرجی وکیل کے لباس میں کلکتہ ہائی کورٹ پہنچیں، خود کریں گی مقدمے کی پیروی

Thu, 14 May 2026 17:02:55    S O News
انتخابی تشدد کیس: ممتا بنرجی وکیل کے  لباس  میں کلکتہ ہائی کورٹ پہنچیں، خود کریں گی مقدمے کی پیروی

کولکاتہ ، 14/ مئی (ایس او نیوز /ایجنسی)مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ اور ٹی ایم سی چیف ممتا بنرجی جمعرات کو وکیل کے لباس میں کلکتہ ہائی کورٹ پہنچیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہ ہائی کورٹ میں انتخاب کے بعد ہونے والے تشدد سے متعلق دائر مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) معاملہ میں چیف جسٹس سوجوئے پال کے سامنے دلیل رکھیں گی۔ یہ عرضی ٹیم ایم سی لیڈر کلیان بنرجی کے بیٹے شیرشانیا بنرجی نے داخل کی تھی۔ واضح رہے کہ ممتا بنرجی اس سے قبل ایس آئی آر کے معاملے پر بھی سپریم کورٹ میں بطور وکیل دلیل پیش کر چکی ہیں۔

عرضی گزار کے مطابق انتخاب کے بعد کئی ترنمول لیڈران اور کارکنان کو مبینہ طور پر اپنے گھر چھوڑنے کے لیے مجبور کیا گیا، جبکہ ان میں سے کئی پر ترنمول کانگریس سے ان کے تعلقات ہونے کی وجہ سے حملہ کیا گیا۔ یہ عرضی 12 مئی کو کلکتہ ہائی کورٹ میں داخل کی گئی تھی۔ یہ معاملہ چیف جسٹس سوجوئے پال اور جسٹس پارتھ سارتھی سین کی ڈویژن بنچ کے سامنے سماعت کے لیے آیا ہے۔

ترنمول کانگریس نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’ہماری چیئرپرسن ممتا بنرجی آج ذاتی طور پر کلکتہ ہائی کورٹ پہنچیں تاکہ بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے انتخاب کے بعد پھیلائے گئے وسیع پیمانے پر تشدد سے متعلق معاملے میں دلائل پیش کر سکیں۔‘‘ پارٹی کے مطابق ایک بار پھر انہوں نے ثابت کر دیا کہ آخر وہ دوسروں سے مختلف کیوں ہیں۔ وہ بنگال کے عوام کو ان کی مشکل گھڑی میں کبھی تنہا نہیں چھوڑتیں۔ وہ سچ، انصاف اور آئینی اقدار کے لیے لڑنا کبھی بند نہیں کرتیں۔ اور ہر بار نفرت کی سیاست سے اوپر اٹھ کر بے مثال ہمدردی، جرأت اور عزم کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ خواہ ایس آئی آر کی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانی ہو یا بھارتیہ جنتا پارٹی کے بے قابو رویے کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہونا، وہ مسلسل یہ ثابت کر رہی ہیں کہ آج ملک میں ان جیسی کوئی اور لیڈر موجود نہیں۔

واضح رہے کہ ممتا بنرجی مغربی بنگال انتخاب کے نتائج کے بعد سے مسلسل انتخاب میں بے ضابطگی کا الزام عائد کرتی رہی ہیں۔ وہ بی جے پی سے زیادہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کو ہدف تنقید بنا رہی ہیں۔ ٹی ایم سی کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) کے ذریعہ الیکشن کمیشن نے لوگوں کو ووٹ کرنے سے محروم کیا ہے۔ ساتھ ہی سابق وزیر اعلیٰ ووٹوں کی گنتی میں بھی بے ضابطگی کا الزام عائد کر رہی ہیں۔

ابل ذکر ہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخاب کے نتائج 4 مئی کو آئے تھے، اس کے بعد کئی جگہوں سے تشدد کی خبریں آئی تھیں۔ سوشل میڈیا پر ٹی ایم ایس کے دفتر پر حملے کی ویڈیوز بھی سامنے آئی تھیں۔ اس کے متعلق ٹی ایم سی نے الزام عائد کیا تھا کہ مغربی بنگال میں انارکی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور ہمارے کارکنان پر حملے ہو رہے ہیں۔


Share: