بنگلورو ، 14/ مئی (ایس او نیوز /ایجنسی) الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ملک بھر میں ووٹر فہرستوں کی ’’خصوصی جامع نظرِ ثانی‘‘ (ایس آئی آر) کے تیسرے مرحلہ کا اعلان کردیا ہے۔ اس مرحلہ کے تحت کرناٹک، مہاراشٹر، دہلی سمیت 16 ریاستوں اور 3 مرکزی زیرِ انتظام علاقوں میں ووٹر فہرستوں کی دوبارہ جانچ اور تصدیق کا عمل انجام دیا جائے گا۔
انتخابی کمیشن کے مطابق اس مہم کا مقصد ووٹر فہرستوں کو زیادہ شفاف، درست اور تازہ بنانا ہے تاکہ فوت شدہ، منتقل شدہ یا فرضی ووٹروں کے نام حذف کئے جاسکیں اور تمام اہل شہریوں کے نام صحیح طور پر درج رہیں۔
کمیشن کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق تیسرے مرحلہ میں تقریباً 36 کروڑ سے زائد رائے دہندگان کا احاطہ کیا جائے گا، جبکہ لاکھوں بوتھ لیول افسران گھر گھر جاکر جانچ کا عمل مکمل کریں گے۔ سیاسی جماعتوں کے نمائندے بھی اس پورے عمل میں شریک رہیں گے۔
اس مرحلہ میں آندھرا پردیش، اروناچل پردیش، کرناٹک، مہاراشٹر، پنجاب، تلنگانہ، جھارکھنڈ، اڈیشہ، اتراکھنڈ، منی پور، میزورم، ناگالینڈ، میگھالیہ، سکم، تریپورہ، دہلی اور چندی گڑھ سمیت دیگر علاقے شامل کئے گئے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ تیسرے مرحلہ کی تکمیل کے بعد ہماچل پردیش، جموں و کشمیر اور لداخ کو چھوڑ کر تقریباً پورے ملک میں ’’ایس آئی آر‘‘ عمل مکمل ہوجائے گا۔ دوسری جانب اس اعلان کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں اور بعض سماجی تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس عمل کے دوران حقیقی ووٹروں کے نام حذف ہونے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے، جبکہ انتخابی حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کسی بھی اہل ووٹر کے حقِ رائے دہی کو متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔
کرناٹک میں بھی اس اعلان کے بعد سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ متوقع ہے، کیونکہ ریاست میں ماضی میں ووٹر فہرستوں کی نظرِ ثانی کے معاملہ پر سیاسی تنازعات سامنے آچکے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں ’’ایس آئی آر‘‘ کرناٹک کی سیاست کا اہم موضوع بن سکتا ہے۔