بینگلورو ،20 / نومبر (ایس او نیوز) ریزرو بینک آف انڈیا کے افسران کے روپ میں آنے والے لٹیروں نے شہر میں ڈیری سرکل فلائی اوور کے قریب ایک اے ٹی ایم وین سے 7.11 کروڑ روپے لوٹ لیے ۔
دن دہاڑے بڑے ہی دلیرانہ انداز میں انجام دی گئی اس ڈکیتی کے تعلق سے سداپورا پولیس اسٹیشن میں معاملہ درج کیا گیا ہے ۔
لوٹ کا شکار ہوئی سی ایم سی کمپنی کی اے ٹی ایم وین کے ڈرائیور نے بتایا :"ہم چار افراد وین میں تھے ۔ اس دوران پانچ لوگ آر بی آئی افسران کی روپ میں آئے ۔ ہمارے بقیہ ساتھیوں کو اپنی کار میں بٹھایا اور مجھے رقم سے بھری وین میں اپنے ساتھ لے کر چل پڑے۔ ڈیری سرکل فلائی اوور پر وین روکی ۔ میرا فون بند کر دیا۔ پھر تمام رقم اپنی انووا کار میں منتقل کی اور وہاں سے فرار ہوگئے ۔"
شہر کے مصروف علاقے میں اتنی صفائی کے ساتھ اس قدر بھاری رقم لوٹنے کی واردات نے پولیس اور انتظامیہ کو حیران کر دیا ہے ۔ ریاستی وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور نے سینئر پولیس افسران کے ساتھ میٹنگ کے بعد بتایا کہ "ہم مجرموں کو پکڑ لیں گے ۔ ہمیں سراغ مل گئے ہیں ۔ ہم اس معاملے کی انتہائی سنجیدگی کے ساتھ تحقیقات کر رہے ہیں ۔"
ڈی سی پی لوکیش جاگلسار کی قیادت میں پولیس نے خصوصی ٹیم تشکیل دی ہے ۔ شہر کے داخلی اور خارجی ناکوں پر بینگلورو بھر میں چیک پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں اور موٹر گاڑیوں کی تلاشی لی جا رہی ہے ۔
ابتدائی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ لٹیروں نے بہت ہی چالاکی اور صفائی کے ساتھ منصوبہ بندی کی تھی ۔ واردات کے تقریباً ایک گھنٹے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی تھی ۔ اس تاخیر کی وجہ سے کچھ شبہات جنم لے رہے ہیں ۔ پولیس نے چھ ملزمین کے فوٹو گرافس جاری کیے ہیں جن میں پچھلے مجرمانہ ریکارڈ والے افراد بھی شامل ہیں ۔ لٹیروں نے انووا کار پر جعلی نمبر پلیٹ کا استعمال کیا تھا ۔
پولیس کمشنر سیمنت کمار سنگھ نے تیقن دیا ہے کہ ملزمین کو گرفتار کرنے کی تمام تر کوششیں کی جا رہی ہیں ۔