بنگلورو یکم جنوری ایس او نیوز: بنگلورو کے کوگِلو فقیر لے آؤٹ میں غیر قانونی مکانات کے انہدام اور متاثرین کی بازآبادکاری کے معاملے پر اپوزیشن جماعت بی جے پی کی جانب سے ریاستی حکومت پر بنگلہ دیشی غیر قانونی تارکینِ وطن کو مکانات فراہم کرنے کے الزامات کو کرناٹک کے وزیر داخلہ جی پرمیشور نے سختی کے ساتھ مسترد کر دیا۔ انہوں نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض سیاسی مقاصد کے تحت دیے گئے بیانات ہیں۔
وزیر داخلہ جی پرمیشور نے واضح کیا کہ متاثرین کو متبادل رہائش انسانی بنیادوں پر فراہم کی جا رہی ہے، تاہم اس سے قبل تمام دستاویزات کی مکمل جانچ اور اہلیت کی تصدیق لازمی طور پر کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف مقامی اور اہل افراد کو ہی مکانات الاٹ کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’بی جے پی چاہے احتجاج کرے، لیکن بغیر کسی ثبوت کے یہ کہنا کہ وہاں بنگلہ دیشی تارکینِ وطن رہائش پذیر ہیں، درست نہیں ہے۔ کیا حکومت جانچ نہیں کرتی؟ مکمل تصدیق کے بعد ہی مکانات الاٹ کیے جا رہے ہیں۔ اگر کوئی بنگلہ دیشی شہری پایا گیا تو اسے مکان نہیں دیا جائے گا بلکہ گرفتار کر کے متعلقہ سفارت خانے کو اطلاع دے کر ملک بدر کیا جائے گا۔‘‘
جی پرمیشور نے مزید کہا کہ اگر کوئی غیر قانونی تارکِ وطن کسی بھی قسم کی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور اسے جیل بھیجا جائے گا۔ اپوزیشن لیڈر آر اشوک پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آر اشوک خود ماضی میں ریاست کے وزیر داخلہ رہ چکے ہیں اور انہیں تمام قوانین اور طریقۂ کار کا بخوبی علم ہے، اس کے باوجود وہ سیاسی مفادات کے تحت ایسے بیانات دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اپوزیشن لیڈر آر اشوک نے الزام عائد کیا تھا کہ ریاست میں سیلاب سے متاثرہ عوام کو تاحال مناسب رہائش فراہم نہیں کی گئی، جبکہ ریاستی حکومت نئے سال کے تحفے کے طور پر مبینہ طور پر غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکینِ وطن کو کثیر المنزلہ عمارتوں میں مکانات فراہم کر رہی ہے۔
بی جے پی کے بعض رہنماؤں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ منہدم کیے گئے زیادہ تر غیر قانونی مکانات مسلمانوں کے تھے، جس کے باعث حکومت پر ’’مسلم نوازی کی سیاست‘‘ کرنے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے، تاہم ریاستی حکومت نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں گمراہ کن قرار دیا ہے۔
دریں اثنا، کلبرگی جیل میں قیدیوں کی جانب سے پارٹی منانے اور تاش و اِسپِیٹ کھیلنے کی مبینہ ویڈیوز سے متعلق سوال پر وزیر داخلہ جی پرمیشور نے کہا کہ یہ واقعہ چاہے حالیہ ہو یا 2020-21 کے دوران پیش آیا ہو، اس کی مکمل جانچ کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بعض افراد حکومت کو بدنام کرنے کی نیت سے پرانی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا، ’’اگر جانچ میں یہ ثابت ہوا کہ یہ واقعہ حالیہ ہے تو جیل حکام کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ جیل کے ڈائریکٹر جنرل تمام جیلوں کا دورہ کر رہے ہیں اور نظم و ضبط کو بہتر بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔‘‘