بینگلور 29/دسمبر (ایس او نیوز) بنگلورو کے یلہنکا کے قریب واقع کُوگیلو علاقے میں مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی رہائشی مسلم بستیوں کو مسمار کیے جانے کے معاملے میں ریاستی انسانی حقوق کمیشن نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے کارروائی شروع کر دی ہے۔ پیر کے روز کمیشن کے چیئرمین شیام بھٹ نے انہدامی کارروائی سے متاثرہ مقام کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مقامی لوگوں سے ملاقات کر کے ان کی شکایات اور مسائل تفصیل سے سنے۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیام بھٹ نے بتایا کہ اس واقعے کے سلسلے میں ریاستی انسانی حقوق کمیشن میں سو موٹو (ازخود) شکایت درج کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکانات خالی کرانے اور منہدم کرنے کے معاملے پر گریٹر بنگلورو اتھارٹی (GBA) سے تفصیلی رپورٹ طلب کی گئی ہے۔
چیئرمین نے مزید کہا کہ ریاستی انسانی حقوق کمیشن کے پولیس وِنگ، جس کی قیادت ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ADGP) کر رہے ہیں، علاقے کی مجموعی صورتحال کی باقاعدہ جانچ کرے گا۔ مقامی افراد سے دستیاب دستاویزات حاصل کی جائیں گی اور ان کی صداقت کی مکمل جانچ کے بعد حکومت کو مناسب سفارشات پیش کی جائیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ اگرچہ متعلقہ حکام نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ مکانات سے بے دخل ہونے والے افراد کے لیے متبادل انتظامات کیے گئے ہیں، تاہم مقامی لوگوں نے شکایت کی ہے کہ فراہم کیے گئے کیئر سینٹرس یا عارضی رہائش گاہیں شہر سے کافی دور واقع ہیں۔ شیام بھٹ نے یقین دلایا کہ اس پہلو کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے مقامی افراد کو ہدایت دی کہ جب پولیس تفتیش کے لیے آئے تو اپنے پاس موجود تمام دستاویزات انہیں فراہم کریں۔
فقیر لے آؤٹ اور وسیم لے آؤٹ میں راجیو گاندھی ہاؤسنگ کارپوریشن کا سروے:
دریں اثنا، فقیر لے آؤٹ اور وسیم لے آؤٹ میں راجیو گاندھی ہاؤسنگ کارپوریشن کے حکام نے سروے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اس دوران بے گھر ہونے والے مکینوں سے ان کے پاس موجود دستاویزات کی جانچ کی جا رہی ہے۔ مقامی افراد نے تحصیلدار کی جانب سے جاری کردہ عارضی حقِ ملکیت کے کاغذات، بجلی کے بل، آدھار کارڈ اور دیگر متعلقہ دستاویزات حکام کے حوالے کیے ہیں۔
حکام کے مطابق سروے مکمل ہونے کے بعد متاثرین کے مستقبل کے حوالے سے مزید اقدامات اور سفارشات پر غور کیا جائے گا۔