بینگلورو 28 / نومبر (ایس او نیوز) آج کل کرناٹکا میں محکمہ پولیس پر سے عوام کا اعتماد کمزور پڑتا جا رہا ہے کیونکہ پچھلے دس مہینوں میں پولیس کانسٹیبل سے لے کر آئی پی ایس افسران تک کے تقریباً 124 اہلکاروں کو بدعنوانی، رقم خوری، ڈکیتی، ڈیوٹی سے غفلت اور منشیات کے کاروبار جیسے جرائم میں معطل کیا جا چکا ہے ۔ اور اہم بات یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی کیس خارج نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی کرپشن کی روک تھام کے لیے کوئی کارروائی کی گئی ہے۔ زیادہ تر افسران محکمہ جاتی انکوائری کے بعد ڈیوٹی پر واپس آ جاتے ہیں اور ان کے کالے کرتوت کا سلسلہ بدستور جاری رہتا ہے ۔ حالیہ واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ کرپشن کا سلسلہ کتنا گہرا ہے ۔
ریاست کے معروف کنڑا اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق بنگلورو میں دو کانسٹیبلوں نے ایک انشورنس ایڈوائزر اور اس کے مؤکل سے پیسے بٹورے ۔ ایک کانسٹیبل 7.11 کروڑ روپے کی کیش وین ڈکیتی میں ملوث پایا گیا ۔ ایک پولیس کانسٹیبل سمیت ایک اور گروہ نے سائبر کرائم افسران کا روپ دھار کر ایک بی پی او مینیجر کا اغوا کیا اور اس سے رقم کا مطالبہ کیا ۔
سال 2022 میں اُس وقت کے وزیر اعلیٰ کے حفاظتی انتظامات پر مامور افراد بھی گانجہ فروخت کرتے ہوئے پکڑے گئے تھے ۔
بدعنوانی اور بد کرداری کا یہ مسئلہ صرف نچلے درجوں تک محدود نہیں ہے ۔ ایک انسپکٹر اور پانچ دیگر پولیس اہلکاروں پر مجرموں کو کلین چٹ دینے کے لیے رشوت لینے کا الزام تھا، جن میں ایک منشیات فروش اور قتل کا ایک ملزم بھی شامل تھا ۔
ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو بٹ کوائن اسکینڈل میں شواہد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ۔ اے ڈی جی پی رینک کے افسر کو پی ایس آئی بھرتی گھوٹالہ میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ پرپنّا اگرہارا میں قیدیوں کو وی وی آئی پی سہولیات دینے اور موبائل فون تک رسائی کی اجازت دینے پر ایک جیل سپرنٹنڈنٹ کو معطل کر دیا گیا ۔
حال ہی میں نیند کی گولیاں فروخت کرنے والے گروہ کے ساتھ مبینہ طور پر تعاون کے الزام میں 11 افسران کو معطل کر دیا گیا تھا ۔
اس طرح کے معاملات بنگلورو تک ہی محدود نہیں ہیں ۔ بلکہ ریاست کے دوسرے مقامات سے بھی اس طرح کے معاملے سامنے آ رہے ہیں ۔ داونگیرے میں دو پولیس سب انسپکٹرز کو 7.5 لاکھ روپے مالیت کا سونا لوٹنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے ۔ اس طرح مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے والے پولیس افسران یا اہلکاروں کی فہرست میں اضافہ ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔
وزیر اعلیٰ سدارامیا اور وزیر داخلہ جی پرمیشورا نے بار بار پولیس کو ان کی غلط کاریوں اور بدعنوانیوں کے لیے آڑے ہاتھوں لیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے افسران کو رئیل اسٹیٹ مافیا سے ہاتھ ملانے کے خلاف خبردار کیا ہے، جو کہ زمینوں پر قبضے اور رقم وصولی کے لیے بدنام ہے ۔ جب کہ وزیر داخلہ نے کھلے عام تھانوں کو "رئیل اسٹیٹ اڈوں" میں تبدیل کرنے پر سخت تنقید کی ہے ۔ اس طرح کی بدعنوانیوں کا تسلسل ایک طویل عرصے سے جڑے ہوئے "پوسٹنگ کے لیے نقد" کلچر سے پیدا ہوتا ہے۔
افسران منافع بخش پوسٹنگ حاصل کرنے کے لیے وزیروں اور سیاست دانوں کو بھاری رقوم ادا کرتے ہیں اور اس ادائیگی کو ایک قسم کی سرمایہ کاری کے طور پر دیکھتے ہیں اپنی تعیناتی کے دوران رقم وصولی، رشوت خوری، مافیا کے ساتھ ملی بھگت یا جرم کو نظر انداز کر کے اس رقم کو سود کے ساتھ وصول کرنے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں ۔
بدعنوانی کا یہ نظام قانون نافذ کرنے والے نظام کی بنیاد ہی کو تباہ کر رہا ہے ۔ جہاں بنگلورو پولیس نے کئی ہائی پروفائل کیسوں کو حل کرنے کے لیے اپنی شناخت بنائی ہے، وہیں پولیس فورس کے اندر موجود ناپاک عناصر کی وجہ سے اس کی ساکھ تیزی سے داغدار ہوتی جا رہی ہے ۔
پولیس کو 'وردی میں مجرم' کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا اور نہ ہی برداشت کیا جا سکتا ہے ۔ حکومت کو عادی مجرموں کا صفایا کرنا چاہیے ۔ پوسٹنگ کے لیے پیسے بٹورنے کا ریکیٹ ختم کرنا چاہیے اور فوری طور پر خاطیوں کے لئے مثالی سزا کو یقینی بنانا چاہیے۔ ایسا کرنے میں ناکامی بدعنوان پولیس کو کسی قسم کی سزا کے خوف یا ڈر کے بغیر اپنے جرائم جاری رکھنے کا حوصلہ دیتی ہے، جس کا نتیجہ بالآخر یہ ہوتا ہے کہ پولیس پر سے عوام کا اعتماد کا ختم ہو جاتا ہے اور معاشرے میں مجرموں کا طوطی بولنے لگتا ہے ۔