بنگلورو 8/دسمبر (ایس او نیوز): کرناٹک میں ایس آئی آر یعنی Special Intensive Revision کے تحت ووٹر لسٹوں کی بڑے پیمانے پر دوبارہ جانچ کے عمل نے سماجی کارکنان، قانونی ماہرین اور مختلف شہری تنظیموں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ انہی خدشات کے پیش نظراتوار کو بنگلورو میں ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جہاں مقررین نے SIR کو جمہوری حقوق کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمل "درپردہ این آر سی" جیسا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں ووٹروں کے اخراج کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
اجلاس میں مختلف تنظیموں کے نمائندوں نے بتایا کہ SIR کے تحت مقامی عملہ ووٹر لسٹوں کی از سرِ نو تصدیق کر رہا ہے، مگر اس پورے عمل میں شفافیت کی شدید کمی ہے۔ کئی علاقوں میں معائنہ بغیر اطلاع کے ہو رہا ہے، جبکہ ووٹروں کو مناسب طریقے سے یہ بھی نہیں بتایا جا رہا ہے کہ کن بنیادوں پر کسی کا نام لسٹ سے حذف کیا جا سکتا ہے۔

قانونی ماہرین نے متنبہ کیا کہ اگر SIR میں شفافیت نہ لائی گئی تو ہزاروں شہری اپنے ووٹ کے حق سے محروم ہو سکتے ہیں، جو آئینی طور پر ایک قسم کی “سِول ڈیتھ” تصور کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق ووٹر لسٹ سے نام حذف ہونے کا اثر صرف ووٹنگ تک محدود نہیں رہتا، بلکہ کئی سرکاری اسکیمیں، شناختی عمل اور سماجی فلاح کے دستاویزات بھی ووٹر آئی ڈی سے جڑے ہوتے ہیں۔
مقررین نے SIR کو "این آر سی کا پچھلا دروازہ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب شناخت کے ثبوتوں کا بوجھ شہری پر ڈال کر گھر گھر جا کر تصدیق کیے بغیر لسٹوں میں رد و بدل کیا جاتا ہے، تو سب سے زیادہ نقصان کرایہ داروں، مزدور طبقے، غریب خاندانوں، خواتین، اقلیتوں اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد کو ہوتا ہے، جن کے پاس کاغذات ہمیشہ مکمل نہیں ہوتے۔

اجلاس کے دوران مختلف شرکاء نے کئی مثالیں پیش کیں، جن میں بعض علاقوں میں پورے گھروں، محلوں یا بستیوں کے نام بغیر کسی معقول وجہ کے “مشکوک” قرار دے کر لسٹ سے نکالنے کی کوشش کی گئی۔
اجلاس کے آخر میں ایک متفقہ قرارداد منظور کی گئی، جس میں ریاستی حکومت اور الیکشن کمیشن سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ SIR کے عمل کو فوری طور پر شفاف بنایا جائے اور کسی بھی نام کو حذف کرنے سے پہلے ریاست بھر میں منظم اور قابلِ تصدیق “گھر گھر سروے” کیا جائے۔
سماجی تنظیموں نے زور دیا کہ اگر حکومت واقعی ووٹر لسٹوں کی درستگی چاہتی ہے، تو اسے پہلے عوام کو پوری معلومات فراہم کرنی چاہئیں، فیلڈ افسران کو مناسب تربیت دینی چاہیے، اور ہر حلقے میں عوامی آگاہی مہم چلانی چاہیے تاکہ شہری اپنے حقوق کی حفاظت کر سکیں۔
شرکاء نے ریاست کے تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے ووٹر تفصیلات فوری طور پر چیک کریں، اور اگر کہیں نام حذف، غلط یا مشکوک نظر آئے تو متعلقہ دفتر سے رجوع کریں، تاکہ آنے والے انتخابات میں کسی بھی شہری کو ووٹ کے حق سے محروم نہ کیا جائے۔