بھٹکل، 18/ اپریل (ایس او نیوز) بھٹکل تعلقہ میں شیرالی - نیر کنٹھا علاقے کے کاشتکاروں کی طرف سے بڑے لمبے عرصے سے ہو رہی مانگ پوری کرتے ہوئے ریاستی حکومت نے کڈوین کٹے کی بھیما ندی سے ایک نہر تعمیر کرنے کا منصوبہ منظور کیا ہے ۔
چھ کروڑ روپوں کی لاگت سے تعمیر ہونے والی اس نہر سے سیکڑوں ایکڑ پر پھیلی زرعی زمین کے لئے آب پاشی آسان ہو جائے گی ۔ حکومت کی طرف سے اس منصوبے کو منظوری ملنے پر علاقے میں چاول، مونگ پھلی اور دیگر فصلوں کی کھیتی کرنے والے سیکڑوں کسانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ اس علاقے میں کئی کسان چنبیلی کے پھول بھی بڑی مقدار میں اگاتے ہیں ۔
پوری طرح کھیتی باڑی پر اپنی زندگی کا انحصار کرنے والے اس علاقے کے کسان اس سے پہلے بھی کڈوین کٹہ کی بھیما ندی کا ہی پانی استعمال کرتے تھے، لیکن پوری طرح مٹی اور کچرے سے بھر جانے کی وجہ سے یہ نہر ایک عرصے سے بے کار سی ہوگئی ہے اور اس سے کھیتوں کے لئے آب پاشی کا مقصد پورا کرنے میں ناکام ہوگئی ہے ۔
گرمی کے موسم میں اس نہر کے ذریعے ندی سے کھیتوں تک پانی لے جانا کسانوں کے ممکن نہیں ہو رہا تھا ۔ اس وجہ سے اس علاقے میں زیادہ تر کسان برسات کے موسم سے ہی فائدہ اٹھا کر صرف چاول کی فصل بویا کر رہے تھے اور بقیہ دنوں میں کھیت یوں ہی ویران پڑے رہتے تھے ۔
اب نہر تعمیر کرنے کا منصوبہ منظور ہونے پر مہادیوا نامی ایک مقامی کسان نے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے کسان یہاں نہر تعمیر کرنے کی مانگ کر رہے تھے ۔ منتخب عوامی نمائندوں سے مل کر انہیں یاد داشتیں دے رہے تھے ۔ اب وزیر منکال وئیدیا نے اس میں پوری طرح دلچسپی لی ہے اور 6 کروڑ روپے کی لاگت سے جو نہر کی تعمیر ہو رہی ہے وہ ہمارے لئے خوشی کا سبب بنی ہے ۔
ضلع انچارج وزیر منکال وئیدیا نے بتایا کہ جب میں پہلی مرتبہ وزیر بنا تھا تو اس علاقے کے کسانوں لہر تعمیر کرنے اور ندی سے کچرا اور کیچڑ نکلوانے کی مانگ رکھی تھی ۔ میں نے 1.5 کلو میٹر لمبی نہر تعمیر کرنے کے لئے 6 کروڑ روپوں کا فنڈ منظور کروایا ہے ۔ ندی سے مٹی اور کیچڑ نکلواتے ہوئے گہرائی بڑھانے اور نئے ڈیم کی تعمیر کے لئے تجویز حکومت کو پیش کی ہے ۔ اس کے لئے جلد ہی فنڈ جاری ہونے کی توقع ہے ۔