ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک میں تقریباً 700 کلومیٹر ندیوں کے حصے آلودہ؛ شہر اور قصبے آلودہ پانی پر منحصر

کرناٹک میں تقریباً 700 کلومیٹر ندیوں کے حصے آلودہ؛ شہر اور قصبے آلودہ پانی پر منحصر

Mon, 15 Dec 2025 15:48:49    S O News
کرناٹک میں تقریباً 700 کلومیٹر ندیوں کے حصے آلودہ؛ شہر اور قصبے آلودہ پانی پر منحصر

شیموگہ 15/ڈسمبر (ایس او نیوز): کرناٹک ریاستی حکومت نے قانون ساز اسمبلی کو آگاہ کیا ہے کہ کرناٹک میں مجموعی طور پر 693.75 کلومیٹر طویل ندیوں کے حصے آلودہ ہیں اور ان میں سے کئی ندیوں کا پانی شہروں اور قصبوں کو فراہم کیا جا رہا ہے۔

پیر کو شائع ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق، بیلگاوی میں منعقدہ سرمائی اجلاس کے دوران تیرتاہلی کے رکن اسمبلی ارگا جنانیندر کے پوچھے گئے تحریری سوال کےجواب  میں وزیر جنگلات، ماحولیات اور حیاتیاتی تنوع ایشور کھنڈرے نے بتایا کہ ندیوں کو بایوکیمیکل آکسیجن ڈیمانڈ (BOD) کی بنیاد پر پانچ زمروں P1 سے P5 میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں P1 سب سے زیادہ آلودہ زمرہ ہے۔

وزیر کے مطابق، شہری اور دیہی علاقوں سے بغیر صفائی کے خارج ہونے والا گھریلو گندا پانی ندیوں کی آلودگی کی بنیادی وجہ ہے۔ ارکاوتی، لکشنا تیرتھا، تنگا بھدرا، بھدرا، تنگا، کاویری، کبنی، کاگینا، کرشنا، شمشا، بھیما اور نیتراوتی ان آلودہ ندیؤں میں شامل ہیں، جبکہ اب تک ان ندیؤں کے کنارے واقع 112 آلودہ نالوں کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔

ایشور کھنڈرے نے وضاحت کی کہ ارکاوتی ندی کو P1 زمرے میں رکھا گیا ہے، جبکہ P2 اور P3 میں کوئی بھی ندی شامل نہیں ہے۔ تنگا بھدرا، بھدرا اور شمشا کو P4 زمرے میں رکھا گیا ہے، جبکہ دیگر آٹھ ندیاں P5 کے تحت آتی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (CPCB) کی جانب سے شناخت کی گئی کم از کم 17 ندیاں ایسی ہیں جن میں بلدیاتی اداروں، قصبوں اور دیہاتوں کا گھریلو گندا پانی براہِ راست چھوڑا جا رہا ہے، جو ندیوں کی آلودگی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق، وزیر نے کہا کہ منڈیا، رام نگر، وجئے پورہ اور شیموگا جیسے اضلاع میں آلودہ ندیؤں سے پینے کا پانی فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ اترا کنڑ، بلاری، وجئے نگر اور باگلکوٹ کے بعض علاقوں میں مقامی ادارے بھی آلودہ آبی ذرائع سے پانی حاصل کر رہے ہیں۔

وزیر نے بتایا کہ 2022-23 میں سی پی سی بی نے ساؤتھ پیناکنی، اگناشنی، شراوتی اور گنگاولی ندیوں  کو بھی آلودہ قرار دیا تھا، تاہم ریاستی حکومت نے سی پی سی بی کو خط لکھ کر کہا کہ یہ ندیاں آلودہ نہیں ہیں اور انہیں فہرست سے خارج کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ ساؤتھ پیناکنی ندی کے لیے ایک ایکشن پلان بھی تیار کیا جا رہا ہے۔

اصلاحی اقدامات کے حوالے سے ایشور کھنڈرے نے کہا کہ قومی گرین ٹریبونل (NGT) کی ہدایات کے مطابق کرناٹک اسٹیٹ پولوشن کنٹرول بورڈ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس (STPs) قائم کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، 12 ندیوں کو بحالی منصوبوں کے تحت ریاست میں یومیہ 817.31 ملین لیٹر گندا پانی پیدا ہوتا ہے، جس میں سے 614.1 ایم ایل ڈی صلاحیت کے 41 ایس ٹی پیز فعال ہیں، تاہم 203.21 ایم ایل ڈی سیوریج ابھی تک بغیر صفائی کے رہ جاتا ہے۔

مزید بتایا گیا کہ 248.91 ایم ایل ڈی صلاحیت کے 19 نئے ایس ٹی پیز پر کام جاری ہے، جبکہ 357.92 ایم ایل ڈی مجموعی صلاحیت کے 39 ایس ٹی پیز منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہیں۔ ان منصوبوں کی پیش رفت کی باقاعدہ نگرانی کی جا رہی ہے اور رپورٹیں این جی ٹی اور مرکزی وزارتِ جل شکتی کو پیش کی جا رہی ہیں۔

وزیر کے مطابق، ریاستی حکومت نے 2021 میں 24 شہروں اور قصبوں میں انڈر گراؤنڈ ڈرینیج (UGD) کے کاموں کے لیے 535.56 کروڑ روپے اور مزید نو یو جی ڈی منصوبوں کے لیے 523.80 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے۔

 


Share: