بینگلورو، 22 / نومبر (ایس او نیوز) ریاست کے دارالخلافہ بینگلورو میں دن دہاڑے اے ٹی ایم وین سے 7.11 کروڑ روپے لوٹنے کی سنسنی خیز واردات انجام دینے کے معاملے میں پولیس نے 8 افراد کو گرفتار کیا ہے اور 5.30 کروڑ روپے بازیافت کیے ہیں ۔
بینگلورو پولیس نے آندھرا پردیش، چتور، تیروپتی اور بینگلورو شہر کے مختلف علاقوں میں جن ملزمین کو گرفتار کیا ہے ان میں سے ایک گووند پور پولیس اسٹیشن کا کانسٹیبل انّپّا نائک ہے جو اس ڈکیتی کا ماسٹر مائنڈ ہے ۔ اس کے علاوہ انّپّا کا کلیدی معاون ضمیر، واردات کے لئے کار فراہم کرنے والے دو ملزمین اور اے ٹی ایم وین کی کمپنی سی ایم سی کے چار ملازمین شامل ہیں ۔ تمام ملزمین سے پولیس کی تفتیش جاری ہے ۔
پولیس کے بیان کے مطابق آندھرا پردیش میں گرفتار کیے گئے تین ملزمین نے پوچھ تاچھ کے دوران بتایا تھا کہ ڈکیتی منصوبہ بنانے اور اس کے بعد پولیس سے بچ کر نکلنے اور رقم کہاں پہنچانی ہے یہ ساری منصوبہ بندی کانسٹیبل انّپّا نے کی تھی ۔ اس لئے ملزمین کی بیانات کی روشنی میں فوری طور پر پولیس کانسٹیبل انپا کو گرفتار کر لیا گیا ۔
بتایا جاتا ہے کہ ملزم ضمیر سی ایم سی کمپنی کا سابق ملازم ہے اور اسے اے ٹی ایم میں رقم لے جانے والی وین اور سسٹم کے بارے میں اندرونی معلومات تھیں ۔ کرائم شعبے سے منسلک کانسٹیبل انّپّا جب کام نہ ہوتا تو ملزم ضمیر سے بار بار ملاقات کیا کرتا تھا ۔ اسی دوران ان دونوں نے مل کر وین سے رقم لوٹنے کا منصوبہ تیار کیا ۔ انّپّا نے کمنہلّی اور کلیان پورہ کے نوجوانوں کی ٹولی تیار کی تھی اور رقم لوٹنے اور موقع پر سے فرار ہونے کی ضروری تربیت دی تھی ۔ جب واردات انجام دی گئی تھی اس وقت ان دونوں میں سے ایک بھی موقع پر موجود نہیں تھا ۔ بلکہ یہ دونوں دور رہ کر اس پوری کارروائی کی نگرانی کر رہے تھے ۔