ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / بہار کی سیاست میں ہلچل: وزیراعلیٰ کے عہدے پر کھینچاتانی، جے ڈی یو میں اختلافات، اکثریت بی جے پی کے سی ایم کے خلاف، نشانت کمار کے حق میں مہم تیز

بہار کی سیاست میں ہلچل: وزیراعلیٰ کے عہدے پر کھینچاتانی، جے ڈی یو میں اختلافات، اکثریت بی جے پی کے سی ایم کے خلاف، نشانت کمار کے حق میں مہم تیز

Sun, 05 Apr 2026 10:57:15    S O News

پٹنہ ، 5/ اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی)  نتیش کمار کے راجیہ سبھا کیلئے منتخب ہونے  اور بہار کی قانون ساز کونسل سے ان کے استعفیٰ  کے بعد ریاست میں بی جےپی کے پہلے وزیراعلیٰ کیلئے راستہ صاف ہوگیاہے مگر اس کی وجہ سے خود نتیش کمار کی پارٹی میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔  پارٹی  کے اراکین اسمبلی کی اکثریت نہیں چاہتی کہ وزیراعلیٰ  بی جےپی کا بنے اس لئے نتیش کمار کے بیٹے نشانت کمار کو ریاست کی کمان سونپنے کا مطالبہ کرتے ہوئے  پوسٹر بازی شروع ہوگئی ہے۔

سنیچر کوجے ڈی یو کی جانب سے پٹنہ میں جے ڈی یو کے ریاستی دفتر کے باہر ایک پوسٹر لگا کر ریاست کی باگ ڈور نشانت کمار کو سونپنے کا مطالبہ کیا۔جے ڈی یو دفتر کے علاوہ یہ پوسٹر شہر کے چند دیگر چوک چوراہوں پر بھی لگائے گئے۔ان پوسٹروں نے ایک بار پھر ریاست میں سیاسی ہلچل تیز کردی ہے۔ پوسٹروں میں ریاست کی قیادت کی تبدیلی کا مطالبہ کیاگیاہے ۔اس میں ’اب نئے چہرے پر کیوں کریں وچار‘جیسے نعرے لکھے گئے ہیں ۔اس کے علاوہ ان پوسٹروں میں ’وکست بہار ۔۲۰۴۰ءکا ویژن ‘بھی پیش کیاگیاہے ،جس سے اس بات کااشارہ ملتاہے کہ پارٹی کے اندر مستقبل کی حکمت عملی اور نئی نسل کو آگے بڑھانےکے خطوط پر کام ہورہاہے۔اس کے ذریعہ یہ پیغام دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ نتیش کمار کے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعدجے ڈی یو کے زیادہ تر لیڈر نشانت کمار کو نئے وزیراعلیٰ کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں وہ  بی جے پی کےکسی  لیڈر کو وزیر اعلیٰ بنانے کے حق میں نہیں ہیں۔

جے ڈی یو دفتر اور دیگر چوک چوراہے پر لگے ان پوسٹروں میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی تصویر  کے  ساتھ ہی  للن سنگھ ، امیش کشواہا،سنجے جھا،شیام رجک اور نیرج کمار کی تصویریں بھی لگائی گئی ہیں۔  اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مذکورہ لیڈر بھی نتیش کی جگہ ان کے بیٹے نشانت کو وزیراعلیٰ بنانے کا مطالبہ کرنے والی مہم کے ساتھ ہیں؟ حالانکہ ان لیڈروں کی جانب سے اس ضمن میں خاموشی ہے تاہم ان میں سے کسی نےبھی مذکورہ پوسٹرس یا ان پر اُن کی تصویروں کے استعمال پر اعتراض  نہیں  کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پٹنہ شہر میں یہ پوسٹر جے ڈی یو طلبہ یونین کے ریاستی نائب صدر کرشنا پٹیل کی جانب سے لگائے گئے ہیں۔ان پوسٹروں سے  یہ بات واضح ہے کہ جے ڈی یو کے اندر سیاسی ہلچل تیز  ہوگئی ہے اور  پارٹی  کے ایم ایل اے کسی بھی حالت میں وزیراعلیٰ کا عہدہ نشانت کمار کے علاوہ کسی دوسرے کو نہیں سونپنا چاہتی۔

ایک اخبار کے سروے  میں بھی یہ بات صاف ہوگئی ہے کہ  جے ڈی یو ۸۵؍ میں سے  ۶۷؍ایم ایل اے نہیں چاہتے کہ ریاست میں  اگلا وزیراعلیٰ  بی جے پی کا ہو۔اس کے برخلاف ۹۷؍ فیصد اراکین نے نشانت کمار کو نتیش کمار کا جانشین اور وزیراعلیٰ  بنانے کی حمایت کی ہے۔ یہ سروے ہندی اخبار’’دینک بھاسکر‘‘ نے کرایا ہے۔اس کے مطابق  جے ڈی یو کے صرف ۲؍ اراکین اسمبلی نے بی جےپی کے موجودہ نائب وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری کو وزیراعلیٰ بنانے کی حمایت کی ہے۔ نتیش کمار کا راجیہ سبھا جانا یقینی ہے اور وہ بہار قانون ساز کونسل کی رکنیت سے بھی مستعفی ہوچکے ہیں   اس لئے یہ سوال اہم ہے کہ کیا نتیش کمار کے دہلی جانے کے بعد کیا   جے ڈی یو حکومت پر   اپنی گرفت مضبوط بنائے رکھ پائے گی ؟یہی وجہ ہے کہ پارٹی کارکنان اب جانشیں کی تلاش میں کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ 


Share: