بھٹکل، 17 جنوری (ایس او نیوز): کرناٹک کے ساحلی علاقوں میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے ریاستی حکومت سرگرم نظر آرہی ہے۔ اور پتہ چلا ہے کہ مرڈیشور کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے بھٹکل تعلقہ میں بڑے پیمانے پرسیاحتی منصوبوں کی تیاری تیز ہو گئی ہے۔ اب تک اس علاقے میں سیاحتی سرگرمیاں زیادہ تر مرڈیشور اور نیترانی جزیرے تک محدود تھیں، جسے انڈومان کے بعد بھارت میں اسکیوبا ڈائیونگ کے لیے دوسرا بہترین مقام مانا جاتا ہے، تاہم اب ان سرگرمیوں کو قریبی الوے کوڈی، تینگن گُنڈی اور بیئلور کے ساحلی علاقوں تک وسعت دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
اسی منصوبے کے تحت تینگن گُنڈی اور الوے کوڈی ساحل سے دو سے ڈھائی کلومیٹر کے فاصلے پر واقع کُندا اور منی کُندا جزیروں کو سیاحت کے فروغ کے لیے استعمال کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں جزیروں کا سروے مکمل کر لیا گیا ہے اور وہاں شروع کی جا سکنے والی ممکنہ سیاحتی سرگرمیوں پر ابتدائی سطح پر تبادلۂ خیال بھی شروع ہو چکا ہے۔

سی آر زیڈ حدود میں ترقیاتی اقدامات
چونکہ کُندا اور مِنی کُندا جزیرے بھٹکل کے ساحلی علاقے کے نہایت قریب واقع ہیں، اس لیے ریاستی حکومت کو ان کے استعمال میں کسی بڑی قانونی رکاوٹ کا سامنا نہیں ہوگا۔ مجوزہ منصوبے کے تحت بھٹکل اور مرڈیشور آنے والے سیاح کشتی کے ذریعے قریبی جزیروں کی سیر کر سکیں گے۔ اس سے نہ صرف بیرونی سیاح مستفید ہوں گے بلکہ بھٹکل شہر اور آس پاس کے دیہی علاقوں کے وہ افراد بھی فائدہ اٹھا سکیں گے جو ہفتہ وار تعطیلات میں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ ساحلوں اور ہوٹلوں کا رخ کرتے ہیں۔ مقامی عوام کے لیے اس پیش رفت کو ’’قدموں تلے جنت‘‘ سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔
مرڈیشور اور نیترانی جزیرے پہلے ہی آبی کھیلوں اور اسکیوبا ڈائیونگ کے باعث عالمی شہرت حاصل کر چکے ہیں۔ اگر ان میں وینکٹاپور ندی اور کُندا جیسے جزیروں کو بھی شامل کر لیا جائے تو اس خطے میں مجموعی طور پر سیاحت کی ترقی ایک نئی سطح تک پہنچ سکتی ہے۔ تاہم، سی آر زیڈ (کوسٹل ریگولیٹری زون) قوانین کے تحت جزیروں پر اجازت کے بغیر کسی بھی قسم کی تعمیرات ممکن نہیں، جس کے باعث ریاستی محکمۂ سیاحت کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ اس کے باوجود بوٹنگ، سی کروزنگ اور اسکیوبا ڈائیونگ جیسی سرگرمیوں کے امکانات روشن بتائے جا رہے ہیں۔
سمندری کروزنگ میں صنعت کاروں کی بڑھتی دلچسپی
واضح رہے کہ گزشتہ بجٹ میں حکومت نے منی کروزنگ کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد ہونّاوار میں شراوتی ندی سمیت مختلف مقامات پر بوٹنگ سرگرمیوں کو فروغ ملا، تاہم سمندری کروزنگ پر اب تک زیادہ توجہ نہیں دی گئی تھی۔ اب منگلورو، مرونتے، مرڈیشور اور کاروار کو مرکز بنا کر منی کروزنگ شروع کرنے پر بات چیت جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق مرڈیشور میں چھوٹی بندرگاہ کی تعمیر کا کام بھی شروع ہو چکا ہے اور کئی صنعت کار حکومتی تعاون کے ساتھ ان منصوبوں میں سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں۔
اگر یہ منصوبے عملی شکل اختیار کر لیتے ہیں تو بھٹکل اور اس کے اطراف کے ساحلی علاقے مستقبل قریب میں کرناٹک کے نمایاں اور پُرکشش سیاحتی مراکز میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔