بنگلورو، 20/ نومبر (ایس او نیوز /ایجنسی )وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ پسماندہ اور دلت طبقات کا بی جے پی، آر ایس ایس اور اے بی وی پی جیسی تنظیموں میں شامل ہونا انتہائی افسوس ناک اور تشویش کا سبب ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنظیمیں پسماندہ طبقات کی مخالف نظریاتی تاریخ رکھتی ہیں، اس کے باوجود کچھ لوگ انہی کے ساتھ کھڑے ہو رہے ہیں، جو سمجھ سے باہر ہے۔
وہ گنان جوتی آڈیٹوریم میں منعقدہ ’’ایل جی ہاونور رپورٹ کے سنہری جشن‘‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے، جس کا اہتمام کرناٹک اسٹیٹ فیڈریشن آف بیک ورڈ کلاسز نے کیا۔وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ دیوراج اَرس نے ہاونور کمیشن کی رپورٹ کو ’’پسماندہ طبقات کی بائبل‘‘ قرار دیا تھا، اور سپریم کورٹ نے بھی اس کی تعریف کی ہے۔
سدارامیا نے یاد دلایا کہ ہاونور ایک عام اور پس ماندہ خاندان سے نکل کر ریاست کے پہلے وکیلوں میں شامل ہوئے اور سماجی انصاف کی لڑائی میں نمایاں کردار ادا کیا۔وزیراعلیٰ نے اپنے سیاسی سفر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ وزیرِ خزانہ تھے تو ایک اخبار نے طنزیہ لکھا تھا کہ "سِدّارامیا تو سو بکریاں تک نہیں گن سکتا، بجٹ کیا پیش کرے گا؟"انہوں نے کہا کہ اس تنقید کو چیلنج کے طور پر قبول کیا اور 16 بجٹ پیش کیے، اور موقع ملا تو 17واں بھی پیش کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’’مجھے آگے بڑھنے کا موقع ملا، اس لیے میں کچھ کر سکا۔ اسی طرح پسماندہ طبقات کو مواقع ملیں گے تو ان میں موجود صلاحیتیں خود سامنے آئیں گی۔‘‘انہوں نے کہا کہ جب تک سماج میں ذات پات موجود ہے، تب تک ریزرویشن ناگزیر ہیں۔
ریاست میں خواندگی 68 فیصد تک پہنچ چکی ہے، لیکن ذات پات کی سختی کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہے۔پسماندہ طبقات کے پڑھے لکھے افراد بھی توہمات اور قدیم سماجی برائیوں پر یقین رکھتے ہیں۔وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ اعلیٰ ذات کا غریب بھی ’’بہت ادب سے‘‘ پکارا جاتا ہے، جبکہ نچلی ذات کا امیر شخص بھی حقارت سے ’’ایک لفظ‘‘ میں پکارا جاتا ہے، جو غلام ذہنیت کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ تاریخ کے ہر دور میں مہاتما بدھ، بسونا، امبیڈکر جیسے رہنماؤں نے ذات پات کے خلاف جنگ لڑی، اور جب تک یہ نظام قائم ہے، مساوات اور انصاف ممکن نہیں۔ وزیرِ اعلیٰ نے اعلان کیا کہ ریاستی حکومت اقتصادی، سماجی اور تعلیمی بنیادوں پر تیار کردہ نئی رپورٹ کو قبول کرنے اور اس پر عمل درآمد کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ریزرویشن کی حد 70 تا 75 فیصد تک بڑھانے پر بھی غور کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب تک میں زندہ ہوں اور سیاست میں ہوں، سماجی انصاف کے لیے لڑتا رہوں گا۔وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ راہل گاندھی نے نظریاتی طور پر ذات شماری کی بھرپور حمایت کی اور مرکز پر دباؤ بنایا۔سِدّارامیا نے بتایا کہ راہل نے حال ہی میں ان سے پوچھا: ’’آپ کی ذات شماری کا کیا ہوا؟‘‘ انہوں نے کہا کہ یہی فکری صاف گوئی ذات شماری کے عمل کو آگے بڑھانے کی بنیادی وجہ بنی۔
اپنے خطاب کے دوران وزیرِ اعلیٰ نے ’’منو اسمرتی‘‘ کے وہ شلوک پڑھ کر سنائے جن میں شودر طبقے کے ساتھ امتیازی سلوک برتا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان ابواب کو سمجھنے کے بعد ہی اندازہ ہوتا ہے کہ ذات پات کا نظام کتنی گہری ناانصافی پر قائم ہے۔