بھٹکل، 27 دسمبر (ایس او نیوز): بنگلور سے گوکرن جاتے ہوئے چتردرگہ میں پیش آنے والے المناک حادثے میں بھٹکل کی رشمی مہالے سمیت سات افراد جان کی بازی ہار گئے۔ یہ حادثہ اپنے اندر کئی ایسے پہلو سموئے ہوئے ہے جو انسان کو زندگی کی ناپائیداری، موت کی حقیقت اور قدرتِ الٰہی کے فیصلوں پر غور کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
اسی حادثے میں ایک جانب رشمی مہالے بس میں ہی جاں بحق ہو گئیں، وہیں دوسری جانب ان کی دو قریبی سہیلیاں—گگن شری اور رکشیتا—اسی جلتی ہوئی بس سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئیں۔ گگن شری کی جانب سے بیان کردہ چشم دید تفصیلات اس امر کی یاد دہانی کراتی ہیں کہ زندگی اور موت انسان کے اختیار میں نہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے طے کردہ وقت اور اس کی حکمت کے مطابق ہی وقوع پذیر ہوتا ہے۔ جس کے لیے زندگی لکھی ہو، وہ سخت ترین حالات سے بھی بچ نکلتا ہے، اور جس کے لیے موت مقدر ہو، اس کی گھڑی مقررہ وقت پر آ ہی جاتی ہے۔
چتردرگہ کے ہیریور نیشنل ہائی وے پر بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ایک کنٹینر لاری غلط سمت سے آتی ہوئی ڈیوائیڈر عبور کر کے سیدھی سمت میں چل رہی مسافر بس سے ٹکرا گئی۔ ٹکر کے فوراً بعد بس میں شدید آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں رشمی مہالے سمیت چھ افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جبکہ بس ڈرائیور نے اگلے روز جمعہ کی صبح دورانِ علاج دم توڑ دیا۔
اس بس میں رشمی مہالے کے ساتھ ان کی بنگلور سے تعلق رکھنے والی دو سہیلیاں، گگن شری اور رکشیتا بھی سفر کر رہی تھیں۔ جو کرسمس کی چھٹیوں پر گوکرن کی سیر کے بعد بھٹکل رشمی کے گھر جانے والی تھیں۔ تاہم تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا—حادثے میں رشمی مہالے بس کے اندر ہی آگ کی لپیٹ میں آ گئیں، جبکہ ان کی دونوں سہیلیاں معجزانہ طور پر جان بچانے میں کامیاب ہو گئیں۔
سی برڈ بس سے زندہ بچ نکلنے والی گگن شری، جو اس وقت بنگلور کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں، نے واقعے کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تینوں بس کی اوپری برتھ پر سو رہی تھیں۔ گگن سنگل برتھ (10U) پر تھیں، جبکہ رشمی اور رکشیتا ڈبل برتھ (11U اور 12U) پر موجود تھیں۔
گگن شری نے بتایا کہ :"اگر میرا فون نیچے نہ گرا ہوتا تو آج میں زندہ نہ ہوتی ۔" گگن شری کے مطابق "جب ٹکر ہوئی تو اس کی شدت نے مجھے اچھال دیا جس کے نتیجے میں میرا موبائل فون نیچے گر گیا ۔ میں نے اسے اٹھانے کی کوشش کی تو دیکھا کہ برتھ کی سیڑھی ٹوٹ چکی ہے ۔ اب میرے پاس نیچے کودنے کے سوا دوسرا کوئی چارہ نہیں تھا ۔ میں نے نیچے جمپ لگایا اور موبائل اُٹھایا تو یہ دیکھ کر دنگ رہ گئی کہ بس پر بہت بری طرح آگ لگی ہے، میں فوراً نچلی برتھ کی کھڑکی سے باہر کود گئی ۔ رکشیتا بھی اپنی اوپری برتھ کی کھڑکی سے ہی باہر کود گئی۔"
گگن اس موقع کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ چند لمحوں کے لئے ہم نے سمجھا کہ رشمی بھی ہمارے پیچھے ہی باہر کود چکی ہے لیکن جب ہمیں لگا کہ رشمی باہر نہیں ہے تو ہم نے پلٹ کر بس کی طرف دیکھا، مگر تب تک پوری بس کو آگ کے شعلوں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا ۔ ہم مدد کے لئے چیخ و پکار کرتے رہے لیکن آگ کے شعلے اتنے تیز تھے کہ کوئی بھی بس کے قریب جانے کی ہمت نہیں کر سکا ۔ اس کا کہنا ہے کہ جس ناقابل یقین تیزی کے ساتھ آگ پھیلی تھی کہ اس میں کسی کو کچھ کرنے کا موقع ہی نہیں ملا اور اس آگ میں رشمی کی جان چلی گئی ۔