منگلورو، 4 دسمبر (ایس او نیوز): وزیراعلیٰ سدارامیا نے مینگلور کے قریب کوناجے میں واقع یونیورسٹی کیمپس میں منعقدہ ’شری نارائن گرو۔ گاندھی جی سمواد‘ کی صد سالہ تقریبات اور شری مہاگرو کی عظیم سمادھی کے صد سالہ سمّیلن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ کیرالہ کے شیو گیِری مٹھ کی شاخ کو اُڈپی یا منگلورو میں قائم کرنے کے لیے مطلوبہ پانچ ایکڑ زمین فراہم کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے کیرالہ میں ذات پات اور چھوت چھات کے نظام کے خاتمے کے لیے نارائن گرو کی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اُس وقت جب پورا سماج سخت طبقاتی بندھنوں میں جکڑا ہوا تھا، نارائن گرو نے انتہائی پسماندہ طبقات کو ان کی شناخت دلانے کی تحریک چلائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ہندوستان میں بھی ذات پات پر مبنی استحصال کے خلاف جدوجہد اور سماجی مساوات کے اقدار کو فروغ دینے کی سخت ضرورت ہے۔
سدارامیا نے زور دے کر کہا کہ “نارائن گرو نے دنیا کو پیغام دیا کہ انسانیت ہی ایک ذات، ایک مذہب اور ایک خدا ہے؛ اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ ان اقدار کو زندہ رکھیں۔” انہوں نے بتایا کہ سیواگری میں نارائن گرو اور مہاتما گاندھی کے درمیان ہونے والا تاریخی مکالمہ گاندھی جی کی ذات پات اور انسانی وقار سے متعلق سوچ میں بڑی تبدیلی کا سبب بنا، جس سے ان کی سماجی یکجہتی کی جدوجہد کو نئی قوت ملی۔ وزیراعلیٰ نے مذہبی رہنماؤں اور دانشوروں سے اپیل کی کہ وہ ذات، جنس، مذہب اور زبان کے نام پر ہونے والی تفریق کی واضح مذمت کریں۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ نارائن گرو، مہاتما گاندھی اور رابندر ناتھ ٹیگور کی تعلیمات کو نصاب میں شامل کیا جانا چاہیے۔

لوک سبھا کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کے سی وینوگوپال نے مرکزی خطاب میں کہا کہ بَسَوَنّا، مہاتما گاندھی اور نارائن گرو کے نظریات ہندوستانی دستور میں گہرائی سے رچے بسے ہیں، مگر افسوس کہ آج یہی دستور خطرات سے دوچار ہے، بالکل اسی طرح جیسے ماضی میں عدم مساوات اور سماجی ناانصافیاں چیلنج بنی ہوئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ 1925 میں نارائن گرو اور گاندھی جی کے درمیان ہونے والا مکالمہ آج بھی تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے، اور اسی مکالمے کی روشنی میں بعد میں وائیکم ستیہ گرہ جیسے بڑے سماجی اصلاحی آندولن کو قوت ملی۔
تقریب کی صدارت کرتے ہوئے اسمبلی اسپیکر یو ٹی قادر نے اعلان کیا کہ اس تاریخی پروگرام کے انعقاد کے پیش نظر، جہاں یہ تقریب منعقد ہوئی، اس میدان کا نام ’گرو۔ گاندھی میدان‘ رکھا جائے گا اور یہاں پارک و اسپورٹس گراؤنڈ کی تعمیر کیلئے خصوصی گرانٹ منظور کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے نزدیک ترقی کا مطلب صرف سڑک اور پلوں کی تعمیر نہیں بلکہ ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جہاں ہندو، مسلم، دلت، عیسائی، مالدار اور محروم طبقات کے بچے ایک ساتھ چل سکیں—یہی حقیقی ترقی ہے۔
صد سالہ پروگرام کے چیئرمین بی کے ہری پرساد نے بتایا کہ 2013 میں منگلورو یونیورسٹی میں نارائن گرو اسٹڈی چیئر کے قیام کی تجویز سامنے آئی تھی۔ اس وقت پسماندہ طبقات کے رہنماؤں نے اس اقدام کی بھرپور حمایت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اپنے ایم ایل سی فنڈ سے انہوں نے 35 لاکھ روپے فراہم کیے تھے، جبکہ اس وقت کے ایم پی نلین کمار کٹھیل اور ایم ایل سی ہریش کمار نے 10-10 لاکھ روپے کی گرانٹ دی تھی۔ بعد میں وزیراعلیٰ سدارامیا نے اس چیئر کے لیے مزید دو کروڑ روپے کی منظوری دی تھی۔ اب وزیراعلیٰ نے شی وِگِریہ مٹھ کی نئی شاخ کے قیام کے لیے پانچ ایکڑ زمین کی نشاندہی کی ہدایت بھی جاری کر دی ہے۔
تقریب میں شیوگِری مٹھ کے سکریٹری شُبھگانند سوامی جی، وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور، ضلع انچارج وزیر دینیش گنڈو راؤ، وزیر برائے خواتین و اطفال لکشمی ہیبّالکر، وزیر برائے پبلک ورکس ستیش جارکی ہولی، وزیر برائے ہاؤسنگ و وقف ضمیر احمد خان، سابق وزیر جناردھن پجاری، ارکان اسمبلی اشوک رائے، ہریش پونجا، راجیش نائک، ڈاکٹر بھرت شیٹی، ویدو ویاس کامت، بھگیرتی مرولیا، کونسل اراکین منجوناتھ بھنڈاری، آئیون ڈیسوزا، سابق وزراء بی رامناتھ رائے، ونئے کمار سورکے، ابھے چندر جین اور کانگریس لیڈران ہریش کمار، پی وی موہن، ایم اے غفور، وشواس کمار داس، ششی دھر ہیگڈے سمیت کئی معزز شخصیات موجود تھیں۔