بنگلورو، 13؍ جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی) وزیرِ اعلیٰ سدارامیا نے کہا ہے کہ مہاتما گاندھی کا نام بی جے پی کو برداشت نہیں، اسی لیے مرکزی حکومت نے مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) کو ختم کر کے وی بی جی رام جی کے نام سے نیا قانون نافذ کیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ منریگا کی مکمل بحالی اور وی بی جی رام جی قانون کی منسوخی تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
وہ آج کے پی سی سی کی جانب سے گایتری وہار میں منعقدہ مہاتما گاندھی روزگار گارنٹی اسکیم بچاؤ تحریک کی پیشگی تیاری اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ یہ تحریک گاؤں کی سطح سے ریاستی سطح تک چلائی جائے گی۔ جس طرح شمالی ہند میں کسانوں نے قوانین کی تبدیلی کے خلاف مضبوط تحریک چلائی، اسی طرح اس تحریک کو بھی منظم اور طاقتور بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ماہ منعقدہ اے آئی سی سی کی ورکنگ کمیٹی اجلاس میں منریگا کے خاتمے کو پارٹی نے نہایت سنجیدگی سے لیا ہے۔ مرکزی حکومت نے منریگا کو ختم کر کے وی بی جی رام جی قانون نافذ کیا ہے، کیونکہ بی جے پی کو مہاتما گاندھی کے نام سے ہی الرجی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ سابق وزیرِ اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دور میں منریگا قانون کو دیہی غریبوں کو روزگار کا حق فراہم کرنے کے لیے ایک بنیادی حق کے طور پر نافذ کیا گیا تھا۔ اس قانون کے ذریعے بے روزگاری، بھوک، معلومات تک رسائی اور جنگلات میں رہنے والے افراد کے مسائل کے حل کی کوشش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ حقِ خوراک، حقِ معلومات، حقِ تعلیم، حقِ روزگار اور جنگلاتی باشندوں کے حقوق جیسے اہم قوانین اسی دور میں نافذ کیے گئے۔ گزشتہ 20 برسوں سے نافذ منریگا قانون کے تحت ملک بھر میں 12.16 کروڑ مزدوروں کو روزگار ملا ہے، جن میں 6.21 کروڑ خواتین شامل ہیں۔
سدارامیا نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ منریگا کے تحت دیہی علاقوں میں 365 دن کام مانگنے کا حق تھا اور مزدور اپنے ہی گاؤں یا زمین پر کام کر سکتے تھے۔ اگر کام نہ ملے تو عدالت سے رجوع کرنے کا بھی حق حاصل تھا۔لیکن مودی حکومت نے اس قانون کو بدل کر وی بی جی رام جی قانون نافذ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ رام نہ دشرَتھ کے ہیں، نہ سیتا کے اور نہ ہی کوشلّیہ کے، بلکہ یہ وہی ناتھورام ہیں جس نے مہاتما گاندھی کو قتل کیا تھا۔ بی جے پی اس قانون کے ذریعے گاندھی جی کو ایک بار پھر قتل کر رہی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ نئے قانون کے تحت مرکزی حکومت نوٹیفکیشن کے ذریعے یہ طے کرتی ہے کہ کہاں کام ہوگا اور مزدوروں کو وہیں جانا ہوگا۔ اس کے علاوہ ریاستوں پر 40 فیصد اخراجات کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے، جس کے باعث ریاستی حکومت کو تقریباً 2500 کروڑ روپے برداشت کرنے پڑ رہے ہیں۔اسی لیے نریگا بچاؤ تحریک شروع کی گئی ہے اور یہ تحریک ایک عوامی تحریک (جن آندولن) میں تبدیل ہونی چاہیے، تاکہ مزدوروں کے حقوق کا تحفظ ممکن ہو سکے۔