بیلگاوی ، 9/ دسمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)سورنا ودھان سودھا کی سیڑھیوں پر آج ایک تاریخی لمحہ اُس وقت رقم ہوا جب وزیراعلیٰ سدارامیا نے دنیا کے دوسرے سب سے بڑے کھادی سے تیار شدہ قومی پرچم کا باضابطہ افتتاح کیا۔ پرچم کی روایتی انداز میں چرخہ گھما کر نقاب کشائی کی گئی، اور اسی وقت قومی ترانہ بجایا گیا جس سے ماحول حب الوطنی کے جذبے سے گونج اُٹھا۔
پرچم کی پیمائش 75 فٹ لمبائی اور 55 فٹ چوڑائی پر مشتمل ہے، جو ملک میں قومی وقار اور کھادی کی تاریخی علامت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس دیو قامت پرچم کو کلبرگی ضلع کے کملاپور کے رہائشی ونود کمار رویپا بَمّنّا اور ان کے خاندان نے مکمل طور پر ذاتی جذبے اور محنت سے تیار کیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے ان کی خدمات کا خصوصی اعزاز کے ساتھ خیرمقدم کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ"کھادی صرف ایک کپڑا نہیں بلکہ ملک کی آزادی، اس کے وقار اور قومی غیرت کی علامت ہے۔ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم سب سیکولر اقدار کے ساتھ جئیں اور انسانیت، بھائی چارے اور حب الوطنی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔"انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں اور طلبہ میں حب الوطنی کو فروغ دینے کے لیے حکومت نے ہر جگہ آئین کی تمہید پڑھانے کا پروگرام شروع کیا ہے، تاکہ ہر شہری آئینی قدروں سے بہتر طور پر واقف ہوسکے۔
ڈپٹی وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ یہ عظیم پرچم آنے والی نسلوں کے لیے حب الوطنی کا طاقتور پیغام ہے۔ انہوں نے اسپیکر یو ٹی قادر اور ڈپٹی اسپیکر رُدرپا لمانی سمیت اُن تمام افراد کی تعریف کی جنہوں نے اس عمل کو ممکن بنایا۔ انہوں نے عوام کے لیے پرچم کے مشاہدے کا انتظام کرنے کی بھی اپیل کی۔
اسمبلی اسپیکر یو ٹی قادر نے کہا کہ"گاندھی جی کی تاریخی موجودگی کے باعث بلگاوی پہلے ہی ایک علامتی مقام رکھتا ہے، اور اب یہاں دنیا کے دوسرے سب سے بڑے قومی پرچم کی تنصیب سے اس کی شناخت مزید مضبوط ہوئی ہے۔"پارلیمانی امور اور سیاحت کے وزیر ایچ کے پاٹل نے اسے ’’محض پرچم نہیں بلکہ قوم پرستی اور اتحاد کی علامت‘‘ قرار دیا۔
اس موقع پر وزیر ایچ کے پاٹل، وزیر ڈاکٹر ایچ سی مہادیوپا، وزیر لکشمی ہیببالکر، چیف سیکریٹری ڈاکٹر شالنی رجنیش، ایم ایل اے اشوک پٹن، سلیم احمد، نصیر احمد اور دیگر اراکینِ اسمبلی کے علاوہ ڈپٹی کمشنر محمد روشن اور دیگر موجود تھے ۔