بنگلورو، 31/ دسمبر (ایس او نیوز /ایجنسی) کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدارامیا نے مرکزی حکومت کی جانب سے نافذ کیے گئے ’’وکست بھارت – گارنٹی فار روزگار اینڈ آجیویکا مشن (دیہی)‘‘ المعروف وی بی–جی رام جی قانون کے نفاذ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک تفصیلی مکتوب روانہ کیا ہے۔ خط میں وزیراعلیٰ نے اس قانون کو مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) کی روح اور بنیادی تصور کے خلاف قرار دیا ہے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق منریگا ایک حق پر مبنی، طلب پر منحصر روزگار اسکیم تھی، جس کے تحت دیہی عوام کو کام مانگنے کا قانونی حق حاصل تھا، جب کہ نیا قانون اس تصور کو بدل کر فراہم کردہ اجازت سے مشروط نظام میں تبدیل کر رہا ہے۔
خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اگرچہ نئے قانون کے تحت روزگار کے دن 100 سے بڑھا کر 125 کر دیے گئے ہیں، تاہم اس کے لیے مرکزی حکومت کی جانب سے مالی وسائل کی کوئی واضح اور یقینی ضمانت موجود نہیں۔ مرکزی امداد کو ’’معیاری الاٹمنٹ‘‘ تک محدود کر دیا گیا ہے، جس میں بیشتر ریاستوں کو صرف 60 فیصد حصہ دیا جائے گا۔ اس سے زمینی سطح پر حقیقی طلب کے باوجود پنچایتوں کو فنڈز کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ ریاستوں کے لیے الاٹمنٹ ’’معروضی پیمانوں‘‘ کی بنیاد پر طے کی جائے گی، جن کا ذکر قانون میں نہیں اور جنہیں کسی بھی وقت تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس سے طلب پر مبنی نظام کے بجائے اوپر سے نیچے مسلط کردہ نظام نافذ ہونے کا خدشہ ہے، جو گرام پنچایت سطح پر شراکتی منصوبہ بندی کے اصول کے خلاف ہے۔مالیاتی پہلو پر اعتراض کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے لکھا ہے کہ منریگا کے تحت جہاں بیشتر ریاستوں میں مرکز اور ریاست کے درمیان 90:10 کا تناسب تھا، وہیں نئے قانون میں اسے 60:40 کر دیا گیا ہے، جس سے ریاستوں پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔ یہ تبدیلی ریاستی حکومتوں سے بامعنی مشاورت کے بغیر کی گئی ہے۔
خط میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ اگر کوئی ریاست اپنی مقررہ حد سے زائد خرچ کرتی ہے تو اس کی مکمل ذمہ داری ریاستی حکومت پر ہوگی، جس سے زیادہ طلب والے علاقوں میں روزگار کی فراہمی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔وزیراعلیٰ نے زرعی سیزن کے دوران 60 دن پہلے نوٹیفکیشن جاری کرنے کی شرط کو بھی قابلِ اعتراض قرار دیا ہے۔
ان کے مطابق اس سے زرعی مزدوروں، آدیواسیوں اور کمزور طبقات کے اجرتی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں اور کم اجرت پر کام یا شہری علاقوں کی طرف ہجرت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔سدارامیا نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ نئے قانون میں بڑھتا ہوا تکنیکی انحصار ڈیجیٹل سہولتوں سے محروم غریب، دلت اور آدیواسی طبقات کو اسکیم سے باہر کر سکتا ہے۔
خط میں آئین کے آرٹیکل 258 اور 280 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ قانون تعاونی وفاقیت کے اصولوں کے منافی ہے، کیونکہ ریاستی حکومتوں سے مناسب مشاورت کے بغیر مالیاتی فریم ورک نافذ کیا جا رہا ہے۔وزیراعلیٰ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ نئے قانون میں مہاتما گاندھی کا نام شامل نہیں، حالانکہ روزگار ضمانتی قانون ایک تاریخی، عالمی سطح پر تسلیم شدہ اور حق پر مبنی قانون ہے، جو گاندھی جی کے نظریۂ گرام سوراج اور انتھیودیہ کی علامت تھا۔
ان تمام نکات کی روشنی میں وزیراعلیٰ سدارامیا نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ وی بی–جی رام جی قانون کے نفاذ کو روکا جائے، ریاستی حکومتوں کے ساتھ آئینی دائرے میں مشاورت کی جائے اور دیہی عوام کے حقِ روزگار کو کمزور ہونے سے بچایا جائے۔