داونگیرے، 23/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی) ریاست میں جاری ضمنی انتخابات کے پس منظر میں ضلع داؤنگیرے کی سیاست میں غیر معمولی ہلچل دیکھنے کو مل رہی ہے۔ داؤنگیرے جنوبی اسمبلی حلقے میں کانگریس کی جانب سے امیدوار کے اعلان کے فوراً بعد پارٹی کو بڑا سیاسی دھچکہ لگا ہے، جہاں اقلیتی طبقے کے متعدد رہنماؤں نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔
کانگریس نے داؤنگیرے جنوبی حلقے سے آنجہانی شامنور شیوشنکرپا کے پوتے سمرتھ شامنور کو امیدوار بنایا، جس کے بعد مقامی سطح پر اقلیتی طبقے میں بے چینی پیدا ہوگئی۔ اقلیتی رہنماؤں کا مطالبہ تھا کہ اس بار ٹکٹ انہیں دیا جائے، تاہم پارٹی قیادت نے انتخابی سروے اور جیت کے امکانات کو بنیاد بنا کر یہ فیصلہ کیا۔ ٹکٹ نہ ملنے پر تقریباً بیس سے زائد اقلیتی رہنماؤں نے بی جے پی کا دامن تھام لیا۔
یہ شمولیت بی جے پی امیدوار سری نواس داس کریاپا کی موجودگی میں عمل میں آئی۔ نئے شامل ہونے والے رہنماؤں نے اعلان کیا کہ وہ نہ صرف بی جے پی کی حمایت کریں گے بلکہ کانگریس کو شکست دینے کے لیے سرگرم کردار ادا کریں گے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت کانگریس کے لیے انتخابی سطح پر ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے، خاص طور پر اس حلقے میں جہاں اقلیتی ووٹ فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔
امیدوار کے اعلان کے فوراً بعد سمرتھ شامنور نے باقاعدہ طور پر اپنا پرچۂ نامزدگی داخل کیا، جس کے دوران وزیر اعلیٰ سدارامیا اور کے پی سی سی صدر و نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار اور پارٹی کے مقامی قائدین اور کارکنان بھی موجود تھے۔ اس موقع پر طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ داخلی اختلافات کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے ریاستی صدر ڈی کے شیوکمار نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امیدوار کا انتخاب مکمل سروے، زمینی حقائق اور جیت کے امکانات کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ اقلیتی رہنماؤں کو قانون ساز کونسل، کارپوریشنوں اور مختلف بورڈز میں مناسب نمائندگی دی جائے گی۔
اسی طرح وزیر اعلیٰ سدارامیا نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اقلیتی طبقے کی ناراضگی کو دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور پارٹی دونوں حلقوں میں کامیابی کے لیے پُراعتماد ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست کے عوام، خصوصاً غریب اور اقلیتی طبقات، اب بھی کانگریس کے ساتھ ہیں۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال چند اہم نکات کی نشاندہی کرتی ہے، جس میں مقامی سطح پر سماجی نمائندگی کے تقاضوں کو نظر انداز کرنا پارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اگرچہ مکمل ووٹ منتقلی کا امکان کم ہوتا ہے، لیکن محدود سطح پر بھی بغاوت انتخابی نتائج پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔
بی جے پی کی جانب سے اقلیتی رہنماؤں کو شامل کرنا ایک علامتی اور عملی دونوں طرح کی حکمت عملی ہے، جس کا مقصد کانگریس کے روایتی ووٹ بینک میں رخنہ ڈالنا ہے۔ کانگریس قیادت اسے حکمت عملی قرار دے رہی ہے، لیکن مقامی سطح پر اختلافات پارٹی نظم و ضبط کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں اگر کانگریس ناراض رہنماؤں کو منانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو نقصان کو محدود کیا جا سکتا ہے، بصورت دیگر یہ بغاوت دیگر حلقوں تک بھی پھیل سکتی ہے۔ دوسری جانب بی جے پی اس موقع کو انتخابی فائدے میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جس سے مقابلہ مزید دلچسپ اور سخت ہونے کا امکان ہے۔
داؤنگیرے جنوبی ضمنی انتخاب اب صرف ایک معمولی انتخاب نہیں رہا بلکہ یہ ریاستی سیاست میں طاقت، حکمت عملی اور سماجی توازن کی ایک اہم آزمائش بن چکا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں کرناٹک کی مجموعی سیاست پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔