ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / یورپ میں شدید گرمی کے باعث 2300 اموات، تحقیق میں موسمیاتی تبدیلی کو ذمہ دار قرار دیا گیا

یورپ میں شدید گرمی کے باعث 2300 اموات، تحقیق میں موسمیاتی تبدیلی کو ذمہ دار قرار دیا گیا

Thu, 10 Jul 2025 17:58:48    S O News

استنبول، 10 جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی)بدھ کو جاری ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، گزشتہ ہفتے سے یورپ میں چلنے والی شدید گرمی کی لہر کے نتیجے میں تقریباً ۲۳۰۰؍اموات ہوئی ہیں۔ امپیریل کالج لندن اور لندن اسکول آف ہائیجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کے سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق ان ۲۳۰۰؍میں سے تقریباً۱۵۰۰؍ اموات (۶۵؍ فیصد)موسمیاتی تبدیلی سے منسلک ہیں، جس نے براعظم میں گرمی کی لہر کو مزید شدید بنا دیا۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی نے یورپ میں ابتدائی گرمیوں کے دوران گرمی سے ہونے والی اموات کو تین گنا کر دیا۔

محققین نے۲۳؍ جون سے ۲؍ جولائی کے دوران ۱۰؍ گرم ترین دنوں پر توجہ مرکوز کی اور لندن، پیرس، فرینکفرٹ، بوڈاپیسٹ، زاگرب (کروئشیا)، ایتھنز، روم، میلان، ساساری (اٹلی)، بارسلونا، میڈرڈ اور لزبن سمیت ۱۲؍ یورپی شہروں کا جائزہ لیا۔انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے باعث پورے یورپ میں گرمی کی شدت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ان شہروں میں درجہ حرارت میں۴؍ ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ درج کیا گیا۔

تحقیق نے خبردار کیا کہ گرمی کی لہر کا درجہ حرارت مسلسل بڑھے گا، جس سے اموات میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ یورپی یونین کی موسمیاتی تبدیلی کی خدمت’’ کوپرنیکس‘‘ نے بھی بدھ کو جاری ہونے والے اپنے ماہانہ موسمیاتی بلیٹن میں کہا کہ جون۲۰۲۵ء دنیا بھر میں تیسرا گرم ترین جون تھا۔ یورپی مرکز برائے درمیانی مدت کی موسمیاتی پیشین گوئیوں کے موسمیاتی شعبے کی اسٹریٹجک سربراہسیمنتھا برگیس کے مطابق جون۲۰۲۵ء میں مغربی یورپ کے بڑے حصوں میں غیر معمولی گرمی کی لہرنے حملہ کیا، جہاں خطے کے بیشتر حصوں نے شدید حَرت کا دباؤ محسوس کیا۔ بحیرہ روم کے مغربی حصے میں بحری سطح کے ریکارڈ درجہ حرارت نے اس گرمی کی لہر کو مزید شدید بنا دیا۔  برگیس نے خبردار کیا کہ یورپ بھر میں گرمی کی لہر کے بار بار آنے اور زیادہ شدید ہونے کا امکان ہے، جو مزید افراد کو متاثر کرے گی۔


Share: