نیویارک 4/اکتوبر (ایس او نیوز) امریکہ کی ریاست ورجینیا میں غزالہ ہاشمی نے تاریخ رقم کردی ہے۔ وہ امریکہ میں لیفٹننٹ گورنر کے عہدے پر فائز ہونے والی پہلی بھارتی نژاد مسلم خاتون بن گئی ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹوں کے مطابق61 سالہ غزالہ ہاشمی نے ورجینیا میں لیفٹننٹ گورنر کے انتخاب میں ری پبلکن امیدوار جان ریڈ کو شکست دی۔ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیوں، بالخصوص امیگریشن اور مسلم ممالک پر پابندی جیسے اقدامات کے خلاف آواز اٹھانے کا وعدہ کیا تھا۔
غزالہ ہاشمی کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق، وہ ورجینیا کی سینیٹ میں خدمات انجام دینے والی پہلی مسلم اور پہلی جنوبی ایشیائی نژاد امریکی خاتون بھی ہیں۔
بھارت سے امریکہ تک کا سفر:
غزالہ ہاشمی 1964 میں بھارت کے شہر حیدرآباد میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والدین تنویر اور ضیا ہاشمی نے انہیں ایک علمی اور خاندانی ماحول میں پروان چڑھایا۔ بچپن میں وہ اپنی نانی کے گھر ملک پیٹ میں رہا کرتی تھیں، جہاں ان کے نانا آندھرا پردیش حکومت کے فنانس ڈیپارٹمنٹ میں ملازم تھے۔
جب غزالہ چار سال کی تھیں، تو ان کا خاندان امریکہ منتقل ہوگیا۔ ان کے والد اس وقت امریکی ریاست جارجیا میں بین الاقوامی تعلقات پر پی ایچ ڈی کر رہے تھے۔ غزالہ نے اپنی ابتدائی تعلیم جارجیا سدرن یونیورسٹی کے مارون پٹ مین لیبارٹری اسکول سے حاصل کی، جہاں ان کے والد اور چچا دونوں پولیٹیکل سائنس کے شعبے میں پڑھاتے تھے۔
اعلیٰ تعلیم اور تدریسی کیریئر:
غزالہ ہاشمی نے جارجیا سدرن یونیورسٹی سے انگریزی میں بیچلر آف آرٹس کی ڈگری حاصل کی، اور بعد میں ایمر ی یونیورسٹی سے امریکن لٹریچر میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔ 1992 میں انہوں نے اپنا تحقیقی مقالہ "In the American Grain and Paterson by William Carlos Williams, and the American Ground" کے عنوان سے مکمل کیا۔
سیاست میں آنے سے قبل، غزالہ نے تقریباً تین دہائیوں تک تدریس کے شعبے میں خدمات انجام دیں۔ وہ یونیورسٹی آف رچمنڈ اور بعد ازاں رینالڈز کمیونٹی کالج میں تدریس کے فرائض انجام دیتی رہیں۔ انہوں نے وہاں Center for Excellence in Teaching and Learning (CETL) کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
سیاست میں قدم رکھنے کی وجہ
غزالہ ہاشمی کے مطابق، سیاست میں آنے کا فیصلہ انہوں نے اس وقت کیا جب سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں پر امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کی۔ اس فیصلے نے انہیں اقلیتوں، مساوات اور شمولیت کی نمائندگی کے لیے میدانِ سیاست میں آنے پر آمادہ کیا۔