بنگلورو 22/جنوری (ایس او نیوز) : کرناٹک میں جمعرات کو آئینی تنازع اس وقت کھڑا ہو گیا جب ریاست کے گورنر تھاور چند گہلوٹ نے قانون ساز اسمبلی کے مشترکہ اجلاس میں ریاستی کابینہ کی جانب سے تیار کردہ خطاب پڑھنے سے انکار کر دیا اور اس کے بجائے اپنا دو سطری تحریر کردہ بیان پڑھ کر ایوان سے باہر چلے گئے۔
روایت کے مطابق، سال کے پہلے مشترکہ اجلاس میں گورنر کابینہ کی منظوری سے تیار کردہ خطاب پڑھتے ہیں، جس کے ذریعے سال بھر کی قانون سازی کا آغاز ہوتا ہے۔ تاہم، گورنر گہلوٹ نے خطاب کے بعض حصوں پر اعتراض ظاہر کیا، خاص طور پر ان پیراگراف پر جن میں مرکزی حکومت کی جانب سے مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) کی جگہ متعارف کرائے گئے نئے قانون ’وکست بھارت–روزگار اور اجیویکا مشن (دیہی)‘ پر تنقید کی گئی تھی۔
آئینی بحران سے بچنے کے لیے بدھ کی شام متعدد سطحوں پر بات چیت ہوئی، جس کے بعد ریاستی حکومت نے چند متنازع نکات حذف کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ اس کے باوجود، گورنر نے مکمل خطاب پڑھنے سے انکار کیا اور صرف دو سطری بیان پڑھ کر اجلاس سے روانہ ہو گئے۔ ان کے ایوان سے نکلتے ہی کانگریس کے بعض ارکانِ قانون ساز کونسل نے انہیں روکنے کی کوشش کی، جبکہ گورنر کے طرزِ عمل کے خلاف نعرے بازی بھی کی گئی۔
وزیراعلیٰ سدارامیا نے گورنر کے اقدام پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 176 اور 163 کے تحت گورنر پر کابینہ کا خطاب پڑھنا لازم ہے۔ انہوں نے اس عمل کو آئینی دفعات کی خلاف ورزی اور عوامی نمائندوں کے ایوان کی توہین قرار دیا اور کہا کہ اس معاملے پر مشاورت کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کرنے پر غور کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے الزام لگایا کہ گورنر مرکزی حکومت کے اشاروں پر کام کر رہے ہیں اور دانستہ طور پر منریگا کی جگہ لائے گئے نئے قانون کا دفاع کر رہے ہیں، جس کی ریاستی حکومت شدید مخالفت کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ منریگا کی بحالی اور نئے قانون کی منسوخی تک ریاست کی جدوجہد جاری رہے گی، کیونکہ یہ قانون دیہی روزگار کی ضمانت کو کمزور اور غیر مرکزی نظام کو متاثر کرتا ہے۔
قانون اور پارلیمانی امور کے وزیر ایچ کے پاٹل نے بتایا کہ کابینہ سے منظور شدہ خطاب کے 11 پیراگراف پر گورنر نے اعتراض کیا تھا، حالانکہ یہ خطاب پہلے ہی تمام اراکینِ اسمبلی اور کونسل کو فراہم کیا جا چکا تھا۔ ان کے مطابق، گورنر کا خطاب نہ پڑھنا ایک واضح آئینی خلاف ورزی ہے۔
وزیر پریانک کھرگے نے سوال اٹھایا کہ آیا راج بھون بی جے پی کا دفتر بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطاب میں شامل تمام نکات ریاستی مفاد سے متعلق حقائق پر مبنی ہیں اور یہ باتیں پہلے ہی وزیر اعظم اور مرکزی وزراء کے سامنے رکھی جا چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی ایک پیراگراف میں بھی غلطی ہوتی تو اس کی نشاندہی کی جا سکتی تھی، مگر پورا خطاب مسترد کرنا قابلِ قبول نہیں۔
جہاں کانگریس قائدین نے اس واقعہ کو ’’جمہوریت کا سیاہ دن‘‘ قرار دیا، وہیں اسمبلی اسپیکر یو ٹی قادر نے گورنر اور حکومت کے درمیان تصادم کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ادارے باہمی تعاون سے کام کرتے ہیں اور گورنر اور ریاستی حکومت کے درمیان کسی قسم کا ٹکراؤ نہیں ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب تمل ناڈو، کیرالہ اور مغربی بنگال سمیت کئی ریاستوں میں بھی گورنرز اور منتخب حکومتوں کے درمیان اختیارات اور قانون سازی کے معاملات پر کشیدگی دیکھی جا رہی ہے، جس سے گورنر کے آئینی کردار پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔