بنگلورو ، 22/ نومبر (ایس او نیوز /ایجنسی)وزیر اعلیٰ سدارامیا نے ریاست میں ماہی پروری (فشریز) یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ماہی گیر برادری کی ترقی کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے۔وہ محکمہ ماہی گیری کی جانب سے منعقدہ "یومِ عالمی ماہی گیری تقریب اور مَچھلی میلہ 2025" کا افتتاح کرتے ہوئے خطاب کر رہے تھے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ “ماہی گیری محکمہ اور ماہی گیر خاندانوں کی ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے ساحلی علاقے سے تعلق رکھنے والے منکال ویدیا کو ہی وزیر مقرر کیا ہے، جو اس محکمہ کو نہایت مؤثر طریقے سے چلا رہے ہیں اور ماہی گیر طبقہ کے مفاد کے لیے مخلصانہ محنت کر رہے ہیں۔”وزیر اعلیٰ کے مطابق ریاست میں ۳۲۰ کلومیٹر ساحلی پٹی موجود ہے۔ ۵ لاکھ ۵۰ ہزار ہیکٹر اندرونی آبی ذخائر دستیاب ہیں۔
مچھلی برآمدات میں کرناٹک ملک بھر میں چوتھے مقام پر ہے۔مچھلی پیداوار میں ریاست تیسری پوزیشن رکھتی ہے۔ماہی گیری کے شعبہ سے ۱۰ لاکھ سے زیادہ لوگوں کا روزگار وابستہ ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ حکومت کے قیام کے بعد متعدد فیصلے کیے گئے، جن میں شامل ہیں میکانائزڈ کشتیوں کے ڈیزل کا سالانہ کوٹہ 1.5 لاکھ کلو لیٹر سے بڑھا کر 2 لاکھ کلو لیٹر کرناروایتی کشتیوں کے لیے صنعتی خوردنی تیل (سی می آئل) فی لیٹر ۳۵ روپے سبسڈی کے ساتھ فراہم کرنا، ہر بجٹ میں ماہی گیر طبقہ کی بہبود کے لیے خصوصی پروگرام متعارف کروانا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاستی حکومت ماہی پروری کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑ کر روزگار کے مواقع بڑھانا چاہتی ہے اور ماہی گیر کمیونٹی کے معاشی استحکام کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔