بنگلورو ، 20/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی) کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر بی کے ہری پرساد نے کہا ہے کہ ملک کی تعمیر و ترقی میں مزدوروں اور کسانوں کی خدمات کا کوئی پیمانہ نہیں، اس لیے ان کی محنت کو مناسب احترام اور حقوق ملنا ضروری ہے۔ وہ کے پی سی سی دفتر میں منعقدہ تعمیراتی مزدوروں کے عزم اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔
ہری پرساد نے کہا کہ کسی بھی ملک کی ترقی میں مزدوروں اور کسانوں کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ تعمیراتی مزدور سخت دھوپ، بارش اور سردی میں کام کرتے ہوئے عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے مزدوروں سے اپیل کی کہ وہ اپنی محنت کو محض روزی کمانے کا ذریعہ سمجھ کر احساسِ کمتری کا شکار نہ ہوں بلکہ اسے ملک کی تعمیر میں اپنی خدمت کے طور پر دیکھیں۔
انہوں نے کہا کہ مزدوروں کو اپنی محنت کا مناسب احترام حاصل ہونا چاہیے اور انہیں اپنے حقوق کے لیے منظم انداز میں آواز اٹھانی چاہیے۔ ان کے مطابق حکومت کے خزانے میں آمدنی پیدا کرنے میں محنت کش طبقے کا اہم کردار ہے، اس لیے عوام کے ذریعے منتخب نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ سرکاری وسائل کا استعمال مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے بھی یقینی بنایا جائے۔
ہری پرساد نے سماجی اصلاح پسند نارائن گرو اور ڈاکٹر بی۔ آر۔ امبیڈکر کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم، خود اختیاری اور تنظیم کے ذریعے سماجی جدوجہد کو مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے مزدوروں سے اپنے حقوق کے لیے متحد ہونے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ سابق مرکزی وزیر آسکر فرنانڈیز نے بھی مزدوروں کے لیے متعدد اقدامات کیے تھے۔ ان کے مطابق سیاست کو ذاتی مفاد یا زندگی گزارنے کا ذریعہ بنانے کے بجائے عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے کا ذریعہ ہونا چاہیے۔
ہری پرساد نے اپنے خطاب کے دوران مذہب کو سیاسی مباحث کا حصہ بنانے پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ عبادت اور مذہبی رسومات ہر شخص کا ذاتی معاملہ ہیں اور لوگ اپنے گھروں میں نماز، پوجا اور دیگر مذہبی عبادات انجام دیتے ہیں، اس لیے حکومت کے انتظامی امور کو مذہب سے جوڑنا مناسب نہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ مذہب کو سیاست میں لانے سے سماج میں کشیدگی پیدا ہوتی ہے اور نوجوانوں کو ایسے معاملات میں گرفتار کیا جارہا ہے جو ان کے مطابق سماجی تنازعات سے متعلق ہیں۔ انہوں نے مذہبی مقامات کے قریب اشتعال انگیز نعروں، بلند آواز میں موسیقی اور مذہبی جذبات کے سیاسی استعمال پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ کسی بھی مذہب کی بنیادی تعلیمات اس نوعیت کے طرزِ عمل کی حوصلہ افزائی نہیں کرتیں۔
مرکزی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے ہری پرساد نے الزام عائد کیا کہ مزدوروں کے حقوق سے متعلق پالیسیوں کو کمزور کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں کے کام کے اوقات اور حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔
انہوں نے بے روزگاری کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ملک میں بڑی تعداد میں گریجویٹ نوجوان روزگار سے محروم ہیں۔ تاہم انہوں نے اس دعوے کے لیے اپنے خطاب میں کوئی مخصوص سرکاری یا تحقیقی ماخذ پیش نہیں کیا۔
ہری پرساد نے ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرِ ثانی کے عمل، یعنی ایس آئی آر، کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے مزدوروں، اقلیتوں اور دیگر محروم طبقات سے اپیل کی کہ وہ اپنی تفصیلات کی جانچ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کا نام ووٹر فہرست میں موجود رہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایس آئی آر کے دوران مزدوروں، اقلیتوں اور درج فہرست طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کے نام متاثر ہورہے ہیں۔ یہ ان کا سیاسی الزام ہے؛ ووٹر فہرست کی نظرِ ثانی میں نام شامل کرنے یا حذف کرنے کے لیے الیکشن حکام کی جانب سے مقررہ جانچ اور دعوے و اعتراضات کا عمل موجود ہے۔ ہری پرساد اس سے قبل بھی کرناٹک میں ایس آئی آر کے طریقۂ کار پر اپنے تحفظات ظاہر کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین نے شہریوں کو حکومت منتخب کرنے کا حق دیا ہے اور عوام کو اپنے بچوں کے بہتر مستقبل، تعلیم، صحت اور روزگار کے لیے مناسب حکومتی پالیسیوں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کرنا چاہیے۔
ہری پرساد نے کہا کہ مزدوروں اور عام شہریوں کی طاقت آئین اور جمہوری نظام سے وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو اور ڈاکٹر بی۔ آر۔ امبیڈکر سمیت کئی رہنماؤں کی جدوجہد کے نتیجے میں ملک میں ایسا جمہوری نظام قائم ہوا جس میں عوام کو حکومت منتخب کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ مزدور اور عام شہری اگر اپنے حقوق، تعلیم، صحت اور اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں بیدار ہوں تو اس کا اثر پورے معاشرے پر پڑے گا۔
ہری پرساد نے سابق حکومتوں کی جانب سے عوامی شعبے کے اداروں اور آبپاشی منصوبوں کے قیام کا حوالہ دیتے ہوئے بھی مرکزی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کرناٹک میں بیشتر بڑے ڈیم کانگریس حکومتوں کے ادوار میں تعمیر ہوئے۔ یہ دعویٰ ان کے خطاب کا حصہ تھا اور انہوں نے اس کی تفصیلی فہرست یا سرکاری اعداد و شمار پیش نہیں کیے۔
انہوں نے مزدوروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ، جمہوری اقدار اور آئینی حقوق کے لیے منظم رہیں اور اپنے ووٹ کی اہمیت کو سمجھیں۔